تعلیم وتربیت

خرید بک لینک

تعلیم وتربیت کی اہمیت وضرورت (6)

تحریر : محمد حسن جمالی

تعلیم اور تربیت کی اہمیت وضرورت کے عنوان سے جاری سلسلہ وار تحریروں کی چهٹی قسط میں ہم ان شرائط کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جو تعلیم وتربیت حاصل کرنے والوں سے مربوط ہیں - علم اور تربیت کی دولت کے خواہاں افراد جب تک ان شرائط کو پورا کرنے کی جدوجہد نہیں کریں گے انہیں اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ملے گی - بطور خلاصہ وہ اہم شرائط یہ ہیں:

1- *مقصد پر مکمل ایمان لانا*

تعلیم وتربیت کے میدان میں کامیابی کے حصول کے لئے سٹوڈنس اور طلاب کو سب سے پہلے اپنی تعلیم کے ہدف پر ایمان لانا ضروری ہے، یعنی انہیں اس بات پر باور قلبی رکهنا چاہئے کہ تعلیم وتربیت کے بغیر آدم کی اولاد انسان کامل نہیں بن سکتی، جب انسان ناقص رہتا ہے تو انسانی معاشرہ بهی سالم نہیں رہ سکتا، کیونکہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے، ان سے قطع نظر معاشرے کے وجود کا تصور ہی لغو ہے- تعلیم اور تربیت کے بغیر انسان کماحقہ نہ اپنی زندگی کے ہدف سے آشنا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اسے اپنے خالق حقیقی وپراسرار کائنات کی شناخت - انہیں اس بات پر یقین ہونا ضروری ہے کہ علم ایک لازوال دولت اور بے مثال طاقت ہے، اس دولت کا مادی دولت سے ہرگز موازنہ نہیں کیاجاسکتا - اس حوالے سے نہج البلاغہ میں موجود پیشوائے اول حضرت علی (ع)کے ایمان افروز کلام کا بغور مطالعہ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے - آپ جناب کمیل سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے کمیل! یاد رکھو,کہ علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے، مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے، مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں - اے کمیل! علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے، اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے - یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم .اے کمیل! مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں -

(اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طر ف اشارہ کیا اورفرمایا) دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش اسے اٹھانے والے مجھے مل جاتے، ہاں ملا کوئی تو ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے جودنیا کے لیے دین کو آلۂ کار بنا نے والاہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے، بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہوا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں .اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہوجاتا ہے- ہاں! مگر زمین ایسے فرد سے خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہو یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں؟ خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں، اور اللہ کے نزدیک قدر و منزلت کے لحاظ سے بہت بلند .خدا وند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے .یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میں انہیں بودیں .علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے .وہ یقین و اعتماد کی روح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیزوں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا، اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں .وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیامیں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائی اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ تو زمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں .ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا)اے کمیل! (مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا )اب جس وقت چاہو واپس جاؤ

*نوٹ :* کمیل ابن زیاد نخعی رحمتہ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے، علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و ورع میں امتیاز خاص کے حامل تھے .حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیئت کے عامل رہے 83 ھجری میں 90 برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے

*........جاری........*

+ نوشته شده در 2020/12/1 ساعت 20:27 توسط حسن جمالی |
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 121 تاريخ: چهارشنبه 11 فروردين 1400 ساعت: 22:37

صفحه بندی