سکردو میں سجی محفل اور قائدین وعلماء کی اندہی تقلید کا عجب تماشا
تحریر: محمد حسن جمالی
اندہی تقلید انسانی معاشرے کو تباہ وبرباد کردیتی ہے، یہ عنصر مذہبی رسومات میں گہرا ہوجائے تو اعتقادات کی بنیادیں ہلانے کا باعث بنتا ہے -تمام مکاتب فکر کی نسبت مکتب تشیع کا یہ طرہ امتیاز ہے جو اپنے ماننے والوں کو اس بات پر شدت سے تاکید کرتا ہے کہ اصول دین میں تقلید ہرگز جائز نہیں-اس اہم مسئلے کو تمام مراجع عظام نے اپنی توضیح المسائل کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا ہے- اس سے یہ حقیقت سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ شیعہ مذہب کی بنیاد عقل،منطق،برہان اور استدلال پر استوار ہے- تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر پوری سنجیدگی سے مکتب تشیع کے بارے میں عمیق تحقیق کرنے والے محققین اس نتیجئے تک پہنچ جاتے ہیں کہ کرہ ارض پر موجود مختلف فرق ومذاہب میں سے مکتب تشیع وہ واحد مکتب ہے جس کے اصول وفروع پر مبنی تمام تعلیمات عقل اور فطرت انسانی کے مطابق ہیں، ان میں کوئی تضاد یا ٹکراو نہیں- یہ اور بات ہے کہ پا کستان سمیت دنیا بھر میں کچھ مغرض افراد اس مکتب کی پاکیزہ تعلیمات کو ضد عقل ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں-تکفیری اور سلفی ذہنیت رکھنے والوں نے تو یہاں تک کہدیا ہے کہ شیعہ مکتب عبداللہ بن سبا کی پیداوار ہے!،اس حوالے سے انہوں نے بہت ساری کتابوں کے صفحات سیاہ کرچکے ہیں، لیکن مکتب اہلبیت کے پرودہ شاگردوں نے اپنی قلمی طاقت کے ذریعے ایسے تحقیقی عظیم کارنامے سرانجام دئیے کہ رہتی دنیا تک کے لئے مکتب تشیع کو عبداللہ بن سبا کی پیداوار قرار دے کر عوام الناس کو گمراہ کرنے کا راستہ ہی مسدود کردیا،جس کا ایک نمونہ مرحوم علامہ سید مرتضی عسکری اعلی اللہ مقامہ کی عظیم تحقیقی کتاب (عبداللہ بن سبا) ہے جس کا اردو ترجمہ بھی چھپ چکا ہے-
مکتب تشیع کے عقلی و منطقی ہونے کو سمجھنے کے لئے آپ ذرا مسئلہ امامت پر توجہ دیں شیعہ مکتب فکر کے مطابق امامت کا منصب انتخابی نہیں بلکہ منصوص ہے کیونکہ پہلی بات یہ ہے کہ اگر پیغمبر اکرم ۖ کے بعد خداوندمتعال کی طرف سے منصوب امام موجود نہ ہو تو لوگوں کے لیے اپنی مختلف ذمہ داریوں کی شناخت ممکن نہیں ہو گی۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اللہ کی طرف سے منصوب امام موجود ہو تو امت اسلای میں فہم دین کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہو گا کیونکہ تمام مختلف نظریات امام منصوب کی طرف رجوع کرنے سے رفع ہو جائیں گے۔تیسری بات یہ ہےکہ اسلامی معاشرے میں حاکم کا وجود لازمی ہے اور پوری امت ایک ایسی شخصیت کی محتاج ہے جو اسلامی معاشرے میں دین اور مکتب وحی کی محافظ ہو وہ احکام اسلامی کو نافذ کرے اور مکتب رسالت کو تسلسل ودوام بخشے۔ اگر ایسی شخصیت خداوند متعال کی طرف سے منصوب نہ ہو تو واضح ہے کہ خطا یا ہوائے نفسانی سے متأثر ہونے اور حقائق سے جہالت کی وجہ سے مکتب وحی میں انحراف اور قوانین الہٰی کی جگہ غیر الہٰی قوانین مقرر ہو جائیں گے۔اس کے مقابلے میں اہل سنت جو حضرت علی ابن ابی طالب کی امامت و خلافت بلافصل کے منکر ہیں اور ابو بکر، عمر، عثمان و حضرت علی کی خلافت کے معتقد ہیں، کہتے ہیں چونکہ امت اسلامی کے لیے خلیفہ پیغمبر اکرم ۖاور رہبر کا وجود ضروری ہے اور پیغمبر اکرمۖ کی طرف سے کوئی نص صریح اس بارے میں موجود نہیں اور شوریٰ و مشورت اسلام میں اہمیت رکھتی ہے پس ضروری ہے کہ خلیفہ کا انتخاب(شوریٰ کے ذریعے) کیا جائے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اگر معیار خلافت شوریٰ ہو تو حضرت عمر کی خلافت کی کوئی دلیل نہیں ہو گی تو کہا کہ استخلاف بھی خلافت کی دلیل ہے یعنی اگر کوئی خلیفہ کسی اور کو خلیفہ متعین کرے تو یہی کافی ہے اور کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ان میں سے بعض شوریٰ و استخلاف دونوں کو کافی نہیں سمجھتے کیونکہ معاویہ کی خلافت نہ شوریٰ کے ذریعے تھی اور نہ ہی خلیفہ سابق کے انتخاب سے تھی لہذا قہر، غلبہ کو بھی خلافت کی دلیل قرار دیتے ہیں-ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اہل سنت کے ہاں معیار امامت مشخص نہیں- ان کی باتیں تضادات پر مبنی ہیں-
تکفیری گروہ کومختلف طریقوں سے سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے طرح طرح کے شبھات ایجاد کرنےکے باوجود اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی نہیں ملی، کیونکہ عقل ومنطق اور استدلال پر مبنی عقائد کے ساتھ ان کے خودساختہ عقل اورفطرت انسانی کے مخالف خشک عقائد مقابلہ کرنے سے عاجز وناتوان ہیں-سکردو بلتستان میں مکتب تشیع کی اکثریت ہونے کی وجہ سے ہی دشمنوں کی نظروں میں ہے- وہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ اس خطے میں رہنے والوں کے عقائد خالص ہیں، بلتستان میں برپا ہونے والی محافل ومجالس میں معارف اہل بیت اور خاندان عصمت وطہارت کے حقیقی فضائل ومناقب بیان ہوتے ہیں اور بلتستان کے مومنین صوم وصلات کی پابندی کے ساتھ عزاداری کرتے ہیں- چنانچہ انہوں نے مختلف ذرائع سے غالی فکر کو بلتستان کے معاشرے میں پھیلانے کی مہم چلائی گئی- اس کام کے لئے سہولت کار کون لوگ بنے اور بن رہے ہیں؟ اس کی طرف بعد میں اشارہ ہوگا- پہلے اس حقیقت کو جان لیجئے کہ سکردو بلتستان کے مرکزی شہر کا نام ہے- اس شہر میں بلتستان کے مختلف اضلاع وعلاقوں سے لوگ آکر بسے ہوئے ہیں- پنجاب اور پشتو بولنے والوں کی اچھی خاصی تعداد نے بھی اس شہر کو اپنا مسکن بنارکھی ہے- آپ بے شک سروے کرکے دیکھ لیں کہ سکردو بازار کے اکثردکاندار پشتو بولنے والے نظر آئیں گے اور نائی شاپ اور موچی کا کام کرنے والوں کا تعلق پنجاب سے دکھائی دیں گے، بلکہ شنید ہے کہ پنجابی اور پشتو زبان بولنے والے سکردو کے مقامی لوگوں کی لڑکیوں سے شادی کرکے سکردو میں مستقل سکونت اختیار کررہے ہیں، جن کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے- جب سے سوشل میڈیا کے ذریعے گلگت بلتستان کا خوبصورت خطہ منظر عام پر آیا ہے، یہ خطہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہے تب سے غیر مقامی افراد نے گلگت بلتستان خاص طور پر سکردو میں لڑکیوں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوکر اپنے مقاصد کی تکمیل کا سلسلہ شروع کررکھا ہے- یہ رجحان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے -یہ اقدام شرعی نقطہ نظر سے کوئی معیوب نہیں، کیونکہ مسلمان مرد دنیا کے کسی بھی شہر یا خطے میں جاکر مسلم لڑکی یا عورت سے شادی کرسکتا ہے-اسی طرح پاکستان کا ہرشہری کسی بھی جگہ جاکر رزق حلال کی تلاش کرسکتا ہے- مسائل وہاں سے پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں جب کچھ افراد محنت مزدوری کے نام پر دوسرے شہروں میں جاتے ہیں پھر ان کے معاشرتی ماحول کو خرابی کی طرف لے جانے میں کردار ادا کرتے ہیں-
چند سالوں سے جہاں مختلف این جی اوز تنظیموں کی وساطت سے بلتستان کی اسلامی ثقافت کو داغدار کرنے کی کوششیں عروج پر دکھائی دی رہی ہیں وہیں غالی افکار کو مذہبی رنگ دے کر پرچار کرنے پر بھی تیزی سے کام ہورہا ہے- اس کے لئے سب سے پہلے خود بلتستان کے مقامی کچھ بچوں کو سوشل میڈیا پر شہرت دلائی گئی، ان کی خوبصورت آواز کو مختلف چینلز کی زینت بنائی گئی، پھر آہستہ آہستہ انہیں پنجاب وغیرہ کے بڑے عوامی اجتماعات میں منقبت اور نوحے پڑھنے کے لئے فل پروٹوکول دے کر بلایاگیا-چنانچہ وہ گئے اور غالی ذاکریں کی اندہی تقلید کرتے ہوئے محافل ومجالس کے اجتماعات میں انہیں کے اسٹائل اپناتے ہوئے منقبت اور نوحہ خوانی کرکے شہرت کمائی- بات اسی پر ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ ان چھوٹے شہرت یافتہ بچوں سے غالی افکار کی تشہیر کی ذمہ داری اٹھارکھنے والوں نے رابطہ کیا، ان سے دوستی کی اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی گئی جس پر وہ خوش ہوئے اور ان کے والدین اور رشتہ داروں کی بھی خوشی کی انتہاء نہ رہی!-درحالیکہ حقیقت میں سستی شہرت کے پیچھے دوڑبھاگ کے سبب ان نونہالوں کا بے بدیل سرمایہ(عمر) ضائع ہورہا ہے، ان کی تعلیم وتربیت پر منفی اثر پڑھ رہا ہے، ان کی فکری بنیاد اندہی تقلید پر مستحکم ہورہی ہے اور ان کے شاداب اذہان میں غالی افکار پروان چڑھ رہے ہیں!!اگر فرصت ملے تو والدیں ان باتوں پر ضرور سوچیں- لگتا یہ ہے کہ بلتستان میں اب غالی ٹولے نے باقاعدہ اپنے لئے جگہ بنائی گئ ہے جس کا نمونہ کچھ ہفتے پہلے سکردو میں پاکستان کے شہرت یافتہ غالی ذاکر میر حسن میر کو مدعو کرکے ان کا پرتپاک استقبال کرنا ہے-وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مقررہ وقت پر محفل میں پہنچ گئے اور مخصوص انداز میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کرکے محفل کو خوب گرم کیا- سوچنے کی بات یہ ہے کہ محفل میں تشریف فرما سامعین نے اس کی زبان سے نکلے ہوئے ہر کلمات واشعار کو فرشتے کا کلام سمجھتے ہوئے سنا اور ہر بند پر بے اختیار ہوکر داد دیتے رہے، انتہائی گرمجوشی سے نعرے لگواتے رہے- لوگ اس قدر محو سماعت رہے کہ گویا کوئی علمی شخصیت علم کا دریا بہارہی ہے! مختصر یہ کہ ان کے جوش وجزبے پر مبنی نعروں اور حرکات وسکنات نے غالی ذاکرین کی محافل ومجالس میں لگنے والے نعروں کی رکارڈ توڑ ڈالی-اس محفل کے شرکاء نے اپنے عمل کے ذریعے یہ ثابت کردکھایا ہےکہ بلتستان میں غالی افکار مستحکم ہوتے جارہے ہیں ،اس کے باوجود وہاں کے قائدین وعلماء نے اس موقع پر بالکل خاموشی اختیار کرکے تماشا ہی کرتے رہے،کسی میں بھی غالی ذاکر کو روکنے کی جرات نہیں ہوئی-کہاجاسکتا ہے کہ وہ محفل اندہی تقلید کا مظہر تھی-سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس موقع پر ہمارے قائدین وعلماء کیوں تماشا کرتےرہے؟ کیا ان کی ذمہ دارای بھی فقط سیاسی مسائل کی گھتیاں سلجھانے کے لئے آواز اٹھانے میں منحصر ہوچکی ہے؟ بلتستان کی توانا آواز آغا سید علی و شیخ حسن جوہری سمیت صبح شام قائد بلتستان علامہ شیخ جعفری کے دفتر کی زینت بنے رہنے والوں کو بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس نازک مسئلے پر فی الفور ایکشن لینا چاہئے تھا مگر۔۔۔ ہماری نظر میں غالی افکار کے اس طوفان کو ابھی سے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تو مستقبل قریب میں بلتستان کے جوانوں کے ذہنوں میں غالی افکار کا زھر سرایت کرجائے گا پھر وہ ان کے اعتقادات کا حصہ بن جانے میں دیر نہیں لگے گی، اس وقت پشیمانی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا-جی ہاں سکردو کھرگرونگ کی عزادار کمیٹی نے غالی ذاکر میر حسن کو دعوت دی، جلسہ سجایا، اندہی تقلید کا زبردست مظاہرہ ہوا،مگر قائدین وعلماء اندہی تقلید کا عجب تماشا کرتے رہے!!!
+ نوشته شده در 2022/7/4 ساعت 10:14 توسط حسن جمالی |
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 150 تاريخ: سه شنبه 21 تير 1401 ساعت: 13:59