شاہراہ قراقرم اور تفتان بارڈر پر حالات ناگفتہ کیوں؟
تحریر : محمد حسن جمالی
حالیہ دنوں میں شاہراہ قراقرم اور تفتان بارڈر پر حالات ناگفتہ بہ ہیں-ان دونوں جگہوں پر مسلمانوں کو تکفیری ٹولے فرقہ واریت کی جنگ میں دھکیلنے کے لئے مصروف عمل ہیں-البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ اس جھتے نے شاہراہ قراقرم کو بند کررکھا ہے،لیکن تفتان بارڈر کھلا ہے-دوسرا فرق یہ ہے کہ شاہراہ قراقرم بند کرنے والے اسے کھولنے کے لئے آغا باقر کو گرفتار کرنے سے مشروط کررہے ہیں اور بارڈر پر زائرین مظلوم کربلا کو ایران کی طرف جانے کے لئے ان سے وہاں پر مسلط رشوت خور ذمہ داران پاکستانی دس ہزار روپیے سے ذیادہ رقم رشوت لے رہے ہیں، زائرین کو ذہنی اذیتوں سے دوچار کررہے ہیں اور ان کی بے جا تزلیل کرکے اپنی نخوت وفرعونیت کا کھلا مظاہرہ کررہے ہیں-
تکفیری سوچ کے حامل افراد کا شاہراہ قراقرم کو بند کرنا حیرت کی بات نہیں چونکہ انہوں نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ شمالی علاقہ جات کے باسیوں کو آزماچکا ہے-گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی جنگ وقتا فوقتا ہوتی رہی ہے-اس سے وہاں کے مکینوں کو جانی اور مالی نقصانات ہوتے رہے ہیں-البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے سے تعلق رکھنے والوں میں شعور کا گراف بلند ہوتا گیا،ان کے سامنے فرقہ واریت کے منحوس اثرات اور بھیانک نتائج عیاں ہوتے گئے اور یہ حقیقت ان کی سمجھ میں آتی گئی کہ فرقہ واریت کی جہنم کا جب دروازہ کھلتا ہے تو اس میں گرنے سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا -چنانچہ مختلف مسالک کے علماء زعماء اور دانشمندوں نے سماج کے لئے تباہ کن، انسان کے لئے سم قاتل اور معاشرے کی امنیت کے لئے باعث ننگ وعار ثابت ہونے والے فرقہ واریت کے برے اثرات کو دیکھتے ہوتے اپنے اپنے حلقہ احباب میں لوگوں کو مسلکی اختلافات سے نظریں چرا کر مشترکات پر توجہ دینے کی تاکید کی، اتحاد کی فضا میں جینے پر زور دیا،جس کی بدولت گلگت بلتستان کے معاشرے میں پر امن بقاء باہمی کی زندگی کو استحکام ملا اور لوگوں کو سکون سے اپنی زندگی کے معاملات اور معمولات کو آگے بڑھانے کا موقع میسر آیا-
مگر المیہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان میں شرپسند عناصر ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ شعلہ ور کرنے کے لئے متحرک نظر آرہے ہیں، جس کے پیچھے بدون تردید الیکشن سے بھاگنے والی سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہے- پس پردہ وہی سیاسی ڈرپوک گروہ مٹھی بھر تکفیری ٹولے کو گلگت بلتستان کی امنیت کو برباد کرنے کے لئے فرقہ واریت کی آگ لگانے پر اکسا رہا ہے تاکہ اس کے نتیجئے میں پاکستان کی مجموعی صورتحال خراب رہے، لوگ آپس میں دست گریباں رہے،عوام کی توجہ سیاسی جتھوں سے ہٹی رہے اور حالات کی خرابی کا بہانہ بناکر الیکشن سے خوف زدہ سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے مذید فرار اختیار کرنے کا موقع پیدا ہوجائے! یہ ہے گلگت بلتستان کے حالات کو گھمبیر رکھنے کا اصلی سبب-پوری دنیا پر یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ مفاد پرست 13 جماعتوں کی اتحادی سیاسی طاقت سیاست کے میدان میں ایک عمران خان کا مقابلہ کرنے میں فیل ہوچکی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ عمران خان نے سیاست پڑھ کر عملی سیاست شروع کی جب کہ تیرہ جماعتوں کے قائدین یعنی ذرداری اور نواز شریف فقط مادی طاقت کے بل بوتے پر اس میدان میں اترے-عمران خان نے پاکستانی عوام کو شعور دیا،انہیں خواب غفلت سے بیدار کیا اور 75 سالوں سے وطن عزیز پر شب خون مارنے والے افراد، پاکستان کا قومی خزانہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر عیاشی کرنے والوں خاندانوں کو بے نقاب کیا، ان کی گندی سیاست سے لوگوں کو آگاہ کیا-جب کہ اس کے مقابلے میں ملک سے مفرور مجرم نواز شریف کی جماعت سے متحد ہونے والی جماعتوں نے فرعونی صفت اپنا کر پاکستانی قوم پر اپنا سکہ جمانے پر زور دیا-ذرداری اور نواز شریف نے باری لگاکر پاکستان کے قومی خزانے سے لوٹے ہوئے پیسوں کو ڈالر میں چینچ کرکے پاکستان منتقل کیا،پھر پاکستان کے مقتدر اداروں سمیت جیو اور سماء جیسے ٹی وی چینلز کے مالکان اور جاوید چودھری جیسے پختہ قلم کاروں،صحافیوں اور سیاسی موضوعات پر ٹاک شوز کرنے اورتجزیہ کرنے والے تجزیہ نگاروں کے سامنے ڈالر کی تھیلی کا منہ کھول کر یہ پیشکش کی کہ بس تم نے فقط ہمارے ساتھ دینا ہے ہم تمہیں جتنا چاہے ڈالر دینے کے لئے تیار ہیں- چنانچہ انہوں نے پیشکش کو غنیمت سمجھ کر قبول کیا- پاکستان کے باشعور افراد نے دیکھ لیا کہ انہوں نے ملکر سب سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت کو نقصان پہنچایا اورپی ڈی ایم حکومت بنوانے میں بھر پور کردار ادا کیا-جب شہباز شریف کی حکومت بنی تو نواز شریف کی بیٹی اور اس کے بھائی نے ریاستی طاقت استعمال کرتے ہوئے پہلے اپنے تمام کیسیز کو ختم کروایا پھر عمران خان اور تحریک انصاف سے جڑے افراد پر مظالم کے پہاڑ گرادئیے- بزعم خود وہ چاہتے تھے کہ ڈالر کی طاقت کے علاوہ ریاست کی طاقت کے ذریعے لوگوں پر مارپیٹ کرکے،جیلوں میں لے جاکر ٹارچر کرکے انہیں عمران خان کی جماعت سے نکال کر اپنی جماعت میں لے جائیں اور عمران خان کی جماعت کو کمزور کرکے الیکشن لڑنے کی قابل ہی نہ چھوڑے- اس ہدف کی تکمیل کے لئے انہوں نے لوٹوں کو خرید لیا،بعض کو جان سے مارنے کی دہمکی دے کر تحریک انصاف کی جماعت سے الگ کروایا اور ان سے باقائدہ پریس کانفرس کروایا کر اس بات کا اعلان بھی کروایا کہ آج کے بعد ہمارا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں- البتہ تحریک انصاف کی جماعت سے کچھ لوگ ایسے شجاع اور بہادر نکلے جن پر نہ ان سیاسی جتھوں کے ڈالر کا اثر ہوا اور نہ ہی ان کی دہمکیوں اور ٹارچروں سے وہ خوفزدہ ہوئے، بلکہ وہ شیر بن کر ڈٹ گئے اوراپنے نظرئے پر ثابت قدم رہے جیسے معروف اینکر پرسن عمران ریاض خان-اس کے علاوہ انہوں نے عمران خان پر سو سے ذیادہ جعلی ایف آئی آر کٹوائی اور مقتدر حلقوں کو پہلے سے ہی خریدا ہوا تھا،جن کی مدد سے انہوں نے عمران خان کو جیل میں بند کروایا- سوال یہ ہے کہ کیا ان مظالم سے ان ظالموں کو عوامی رائے اپنی طرف کھنچنے کا فائدہ ملا؟جواب منفی ہے- یعنی لوگ آج بھی عمران خان کو چاہتے ہیں، جس کی دلیل مسلم لیگ ن اور پیپز پارٹی کا الیکشن کرانے کو اپنے لئے موت تصور کرنا ہے!-بہر صورت اس سیاسی ڈرپوک جھتے نے الیکشن کی تاخیر کے لئے گلگت بلتستان سمیت اس وقت پاکستان کے مختلف مقامات پر حالات دگرگون گئے ہوئے ہیں-بجلی اور پٹرول کی آسمان کو چھوتی قیمت کے پس پردہ بھی یہی ہدف کارفرما ہے- یعنی بجلی اور پٹرول کی قیمت عمدا بیش از حد بڑھادی ہے تاکہ عوام احتجاج کرتے رہیں،تظاہرات کرتے رہیں، یوں حالات بدستور خراب رہیں اور انہیں یہ کہنے کا بہانہ ملتا رہے کہ ملک کے حالات گھمبیر ہیں اوران حالات میں الیکشن نہیں ہوسکتا۔۔۔
سیاسی جماعتوں نے آل پاکستان میں پوری منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کو گروہ در گروہ میں تقسیم کیا،ان کے اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیا،انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنادیا،ان کی عقل اور شعور پر جزبات کا غلاف چڑھادیا، ان کی سوچنے اور سمجھنے کی قوت پر پردہ ڈالا، ان سے بصیرت اور نفع ونقصان کے درمیان تمییز پیدا کرنے والی صلاحیت چھین لی اور انہیں دوبارہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا-ویسے پاکستان میں فرقہ واریت کی عفریت کو پروان چڑھانے والوں کی پوری تاریخ ہے- سارے پاکستانی جانتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین پر ضیاء الحق کے دور حکومت میں فرقہ واریت کو عروج ملا، اس نے اپنی حکمرانی کی طاقت سے بہت سوء استفادہ کیا،اس نے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر آل سعود کے اشارے پر وطن امن پاکستان میں ناصبیت اور وہابیت کو مسلمانوں کے درمیان پھلنے پھولنے کا بھر پور موقع فراہم کر دیاـ چنانچہ مسلمانوں پر کفریہ فتوے جاڑنے والے ناصبی ٹولے نے آہستہ آہستہ پاکستان میں اپنے پنجے مضبوط کیا،مدارس کا جال بچھایا، جن میں بچوں کو جعلی احادیث اور قرآن کی تفسیر بالرای کی خشک تعلیم دینے کے ساتھ دہشگردی کی اچھی طرح تربیت دینے میں شب وروز کام کیا،در نتیجہ ایسے مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کی اکثریت نے شوق جہاد اور حورجنت کی لالچ میں عزاداری کے جلوسوں، عید میلاد النبی وجمعہ کے اجتماعات سمیت قومی و ملی اداروں اور تعلیمی وتجارتی مراکزکو نشانہ بناکرلاتعداد بے گناہ مسلمانوں کے خون ناحق سے اپنے نجس ہاتھوں کو رنگین کیا،جس کا سلسلہ شدت وضعف کے فرق کے ساتھ بدستور جاری ہے ۔
یاد رہے اسی ٹولے نے داعش کو وجود میں لایا تھا جس کی سر پرستی آل سعود اور امریکہ کررہے تھے،لیکن داعشی گروہ کو شام، یمن اور عراق کی جنگہوں میں جب ذلت آمیز شکست ملی تب سے ناصبیوں پر نیند حرام ہوئی اور انہوں نے ایک پل کے لئے بھی سکون محسوس نہیں کیا-چنانچہ حسینیت کے ہاتھوں داعش کی ہر جگہ ہونے والی پسپائیوں نے ایک بار پھر کربلا اور حسین ع کے ماننے والوں کے خلاف اس ٹولے کو اپنی ناکام زور آزمائی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کردیا ـگرچہ وہ حسینیت کے خلاف محاز آرائی کرنے کے لئے ہمیشہ موقعےکی تلاش میں رہتے ہیں،وہ شیعوں کی اقلیت اور اپنی اکثریت پر ناز کرتے ہوئے پاکستان کی سرزمین پر آئین پاکستان کی کھلی مخالفت کرتے ہوئےحسینیوں سے آزادی رائے وبیان چھین کر انہیں اپنی خواہشات کا تابع بنانے کے درپے رہتے ہیں-وہ بیچارے اس بات سے یکسر غافل رہتے ہیں کہ کربلا میں 72 نفر نے تیس ہزار سے ذیادہ تعداد پر مشتمل لشکر اعداء سے مقابلہ کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے تھے اور حادثہ کربلا کے بعد تحریک کربلا دنیا بھر کی تحریکوں کے لئے منارہ نور ثابت ہوا تھا-
چنانچہ آج بھی حسین، کربلا اور عزاداری کے نام سے یذیدیت پرلرزہ طاری رہتا ہے جب کہ دوسری طرف یزید کا نام رہتی دنیا تک کے لئے دشنام بن گیا اور ہر باشعور مسلمان اس پر صبحت شام لعنت بھیجنے کو اپنی روح کی تسکین کا باعث سمجھتا ہے ۔حالیہ دنوں میں تکفیری ٹولے مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو بام عروج پر پہنچانے کے لئے مختلف بہانوں کا سہارا لے رہے ہیں ـ اس مزموم شیطانی عزم وارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے پارلیمینٹ میں نام نہاد تحفظ ناموس صحابہ بل پاس کروایا اور بڑی ڈٹائی سے شان صحابہ کی گستاخی کی تہمت لگاکر شیعہ عالم آغاباقر سمیت سنی مفتی قریشی کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی گئی! اس حوالے سے اتنا عرض کرنا کافی ہوگا کہ شیعہ سنی کے درمیان اختلافی بحث یہ ہے کہ کیا تمام صحابہ عادل تھے یا بعض صحابہ عادل نہیں تھے؟ اہل سنت تمام صحابہ کو عادل کہتے ہیں شیعہ تمام صحابہ کی عدالت کے قائل نہیں بلکہ اصحاب میں سے جو قابل اعتماد تھے، حق پر تھے جیسے عمار یاسر، مقداد ،بلال، ابوذر و .. ان سے شیعہ دینی تعلیمات لیتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں، ان کی گفتار رفتار اور کردار کو اپنے لئے آئڈیل سمجھتے ہیں،لیکن مخالف لوگ شیعہ دشمنی میں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیعہ اصحاب کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، شیعہ اصحاب کا دشمن ہیں ، شیعہ اصحاب سے بغض رکھتے ہیں و... اس نامطلوب ہدف تک رسائی کے لئے وہ بعض ضعیف اور غیر معتبر چیزوں اور خود ساختہ تفسیروں کا سہارا لیتے ہیں۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ انہیں تعصب اور شیعہ دشمنی کی وجہ سے اصحاب کے بارے میں شیعہ کتابوں میں موجود وہ مطالب نظر نہیں آتے جو اصحاب کی شان میں ہیں۔حتی شیعہ دشمنی میں انہیں اپنی کتابوں میں ہی اصحاب کے بارے میں موجود وہ مطالب نظر نہیں آتے جنہیں یہ شیعوں کی طرف نسبت دے دے کر شیعوں کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے ہیں ۔۔۔ بعنوان مثال :
1: اصحاب میں سے بعض کا بدعتی ، مرتدد اور جہنمی ہونا:
[ بخاری کتاب الرقاق باب ،کیف الحشر ،باب فی الحوض/صحیح مسلم کتاب فضائل باب اثبات خوض نبینا [ص]
2: اصحاب کا پیغمبر کی نافرمانی کا مرتکب ہونا:
[سنن بن ماجہ کتاب المناسک ، باب فسخ الحج/سنن نسائی ،کتاب عمل الیوم و الیل ،بات مایقولاذا رای الغضب فی وجہہ/۔ مسند احمد، مسند الکوفیین ،حدیث براء بن عاذب۔] صحیح بخاری ،کتاب العلم ، باب کتابۃ العلم ۔
3: بعض اصحاب کا شرابی ہونا :
السنن الکبرىللبیہیقی، کتاب الاشربہ و الحد ، باب ما جاء فی وجوب الحد/ المصنف لعبد الرزاق ،کتاب الاشربہ ،کتاب ،شرب فی رمضان/ مسند احمد ،مسند الانصار ، حدیث بریدہ اسلمی ۔/مصنف ابن أبی شیبہ،کتاب الامراء ،باب ماذکر فی حدیث الامراء ]
4: بعض اصحاب کا بعض کو گالی دینا :
[سنن بن ماجہ کتاب ،فضل علی بن ابی ظالب /مصنف ابن أبی شیبہ ،کتاب فضائل ،باب فضلء علی بن ابی طالب /صحیح مسلم ،کتاب فضائل صحابة ،باب فضائل علی بن ابی طالب ۔
5: بعض کا خلیفہ سوم کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں اور ان کے کا قاتلوں میں سے ہونا : [الطبقات الکبری لابن سعد [3 /74] تاریخ الطبري [3 /424] البدایة والنهایة [7 /207] تاریخ إسلام لذهبی [3 /456]
6: اصحاب کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی :صحیح بخاری ،کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا۔ کتاب الاحکام باب ،مایکرہ من الحرص / جامع الأصول من أحادیث الرسول کتاب الخلافة و الامارة[سقیفة بنی ساعدة کی داستان]السنن الکبری للنسائي ، کتاب القضاء ،باب الحرص علی الامارہ ۔
7: خود اصحاب کے دور میں رسول خدا کی تعلیمات کا ضائع ہوجانا۔[صحیح بخاری ،کتاب مواقیت الصلواة، باب تضیع الصلواة عن وقتها و باب فضل صلواة الفجر/الموطا ،باب نوادر/ شعب ایمان ،باب فصل صلواة الخمس۔]
8: جناب عمر کا سنت پیغمبر کی نقل پر پابندی لگا ۔جامع بیان العلم وفضله باب ذکر ذم الاکثار من الحدیث /شرح مشکل الآثار (15/ 317)معرفة السنن والآثار للبهیقی (1/ 146)
ایسے ہی مطالب سے خود ان کی اپنی کتابیں بری پڑی ہیں، لیکن یہ لوگ ان چیزوں سے جاہل ہیں یا تعصب اور شیعہ دشمنی نے انہیں عدل و انصاف سے دور کیا ہوا ہے، لہذا وہ الٹا چور کتوال کو ڈانٹتا ہے کے فارمولے پر عمل کرتے نظر آتے ہیں-
مسلمانوں کو بیدار رہنا چاہئے کہ ناصبی ٹولے اور مولویوں نے اہلسنت کے لباس میں خود کو ظاہر کرتے ہوئے ایک بڑے فتنے کو ہوا دینے کی ناکام کوشش شروع کی ہے،وہ شیعوں سےاظہار رائے وبیان کی آذادی سمیت ان سے ان کے اعمال،عبادات اور اعتقادات کے مسلمہ حق کو چھین کر جینے کا خواب دیکھ رہے ہیں، یہ اس ٹولے کی جنونیت کی انتہاء نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ پاکستان کو اب اپنے باپ کی جاگیر سمجھنے لگے ہیں کچھ شرم وحیا بھی ہوتی ہے نادانو، پاکستان کو کافرستان اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والوں میں اتنی جرات پیدا ہوئی ہے کہ خون پسینہ ایک کرکے پاکستان بنانےاور اس کی حفاظت کرنے والوں سے اب وہ ان کی عبادی زندگی سلب کرنے کی باتیں کررہے ہیں-ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ زیارت عاشورا شیعوں کا حرز جان ہے،یہ ہماری دنیا اور آخرت کی سعادت کی کنجی ہے اور یہ ہمارے ائمہ کی تعلیمات کاایک انمول حصہ ہے ـ عبادات اور اعمال میں مسلمانوں کی آذادی ریاست پاکستان کے قانون کا بنیادی حصہ ہے،کوئی مائی کا لال یزید ومعاویہ کی محبت میں مسلمانوں کے اعمال وعبادات پر قدغن نہیں لگاسکتا- شیعیان حیدر کرار کوعقائد پر سمجھوتہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں شیعہ قائدین نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے پوری شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسٹینڈ لینے کا مصمم ارادہ کرلیا ہےـ انشاءاللہ اس کا ثمرہ کامیابی کی صورت میں ملت تشیع کے سامنے ظاہر ہوگا-
+ نوشته شده در 2023/9/1 ساعت 13:26 توسط حسن جمالی |
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 48 تاريخ: پنجشنبه 16 شهريور 1402 ساعت: 19:13