آج کا دور تحقیق کا ہے اندہی تقلید کا نہیں

خرید بک لینک

آج کا دور تحقیق کا ہے اندھی تقلید کا نہیں

تحریر: محمد حسن جمالی

موجودہ دور میں علمی و تحقیقی سبقت اور مقابلے کا رجحان مسلسل بڑھتا جارہا ہے- آج دنیا میں لوگ پیشرفت اور ترقی کی طرف گامزن ہیں- بشر کی زندگی کے تمام شعبوں میں آئے روز تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں-غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ ان تمام تبدیلیوں کا اصلی محرک تحقیق ہے-جن ممالک میں تحقیقی کاموں پر ذیادہ کام ہورہا ہے وہی نت نئی چیزیں ایجاد کرکے ترقی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور وہی دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے آئڈیل بننے میں کامیاب ہورہے ہیں- اگر دیکھا جائے تو مذہب کی دنیا بھی اس حقیقت سے خالی نہیں- آج کے اس پیشرفتہ دور میں پڑھا لکھا طبقہ تحقیق ہی کو مذہب کی حقانیت کا معیار سمجھتا ہے،وہ ایسی باتوں کو قبول کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتاجنہیں مذہبی رنگ سے اچھی طرح رنگین توکیا گیا ہو مگر وہ تحقیق شدہ نہ ہوں-

غیرجانبدارانہ تحقیق کا مقصد حق اور سچائی کی تلاش کرکے حقائق تک رسائی حاصل کرنا ہے- جب انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات مخصوصا" مذہبی مسائل میں تحقیق کرنے کی عادت اپنائیے تو اس سے نہ فقط اس کے ماضی کی تاریکیاں روشنی میں بدل جاتی ہیں بلکہ اس کا مستقبل بھی تابناک ہوجاتا ہے-تحقیق کو کھرے اور کھوٹے مسائل کی تمیز کی بنیاد قرار دینے والوں کی دنیا سنورنے کے ساتھ آخرت بھی محفوظ رہ جاتی ہے- تحقیق سے کام لینے والے علمی خزینوں کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کرکے آسودہ حالی کی نعمت سے مالامال ہوتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذہبی اعتقادی مسائل میں جو تحقیق کرکےحقائق کی شناخت کرنے کی راہ میں محنت اور جدوجہد کرتے ہیں وہ شک وتردید کی تاریک وادی سے نکل کر یقین اور اطمینان کی روشن وادی میں داخل ہوتے ہیں، جس کے نتیجئے میں ان کی زندگی پرسکون حالت میں گزرجاتی ہے- اس کا برعکس جو تحقیق کی دنیا سے دور ہوتے ہیں وہ اندہی تقلید کا شکار رہتے ہیں-

مذہبی دنیا میں انسانوں کی اکثریت اندہی تقلید میں گرفتار دکھائی دیتی ہے-یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو اندھا بنادیتی ہے- جو اس مرض میں مبتلاہوتا ہے وہ حق اور صراط مستقیم کی پہچان نہیں کرپاتا اور وہ بصیرت کی دولت سے محروم رہتا ہے- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی معاملات میں لوگوں کی اکثریت اندہی کا شکار رہنے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے لوگوں کی بڑی تعداد اندہی تقلید میں گرفتار رہنے کے یوں تو بہت سارے عوامل ہوسکتے ہیں ہماری نظر میں اس کی بڑی وجہ خواص کی تبلیغات اور تلقینات ہیں- ظاہر ہے ہر مکتبہ فکر کے پیروکاروں کی ذھن سازی کرنے میں اسی گروہ کے خواص کردار ادا کرتے ہیں- المیہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے خواص کی اکثریت مصلحت کا شکار دکھائی دیتی ہے- مذہبی معاملات خاص طور پر اعتقادی مسائل میں وہ حق اور سچ کو جاننے کے باوجود عوام کے سامنے اسے عیاں کرنے کی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے-اگر کوئی ایسی جرات دکھاتا ہے تو عوام تو اپنی جگہ خود خواص بھی تعجب کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے دکھائی دیتے ہیں- اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حدیث غدیر شیعہ سنی دونوں کی معروف کتابوں میں تواتر کے ساتھ منقول ہے،لیکن من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کی تفسیر میں اہلسنت دانشمندوں کی اکثریت نے کہا اور لکھا ہےکہ اس میں لفظ مولی کے معنی دوست ہے، سرپرست نہیں! چنانچہ برصغیر پاک وہند میں رہنے والے اہلسنت علماء اور فضلاء نے اپنی محفلوں اور اپنے عوام کے درمیان حدیث غدیر کی اسی تفسیر کا بڑے شد ومد سے پرچار کیا،عام اہلسنت عوام نے اپنے خواص پر اعتماد کیا،ان کے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی خود سے تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی، انہوں نے آنکھیں بند کرکے اپنے اساتذہ اور مفتیان کرام کی باتوں کو حرف آخر سمجھا اور اس بات پر باور کیا کہ حدیث غدیر میں لفظ مولی سے مراد دوست ہی ہے بس! لیکن ہم نے دیکھا کہ جہاں اس تحقیقی دور میں ہر طرح کے تعصب سے پاک اذھان کسی بھی مسئلے کی صداقت کو تحقیق کے بغیر قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں وہیں اہلسنت کے جید عالم دین مفتی اعظم جناب طارق جمیل صاحب کا ذھن بھی تحقیق کے بغیر حدیث غدیر کی تفسیر کے سلسلے میں نقل ہونے والی باتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا -چنانچہ انہوں نے اس حوالے سے تعصب کی عینک اتار کر تحقیق کی تو اس نتیجئے پر پہنچے کہ حدیث غدیر میں لفظ مولی کے معنی دوست نہیں ہوسکتے، بلکہ تمام قرائن وشواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس میں لفظ مولی کے معنی آقا،سرپرستی اور اولی بالتصرف ہے -جب انہوں نے خود سے تحقیق کرکے حدیث غدیر کی سچائی پر مبنی تفسیر ڈھونڈ نکالی تو اس حقیقت سے اپنے حلقہ احباب کو بھی آگاہ کرنا ضروری سمجھا، وہ دیگر خواص کی طرح مصلحت کا شکار نہیں ہوئے چنانچہ انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اس حقیقت سے اپنے عوام وخواص کو آگاہ کرکے ان پر اتمام حجت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ موصوف نے اپنے خواص وعلماء کے بھرے مجمع میں اس حقیقت کا اعلان کردیا کہ حدیث غدیر میں لفظ مولی کی تفسیر میں دوست کہنا درست نہیں بلکہ اس سے مراد آقا، سرپرست اور اولی بالتصرف ہی ہے-جب مولانا طارق جمیل صاحب نے ممبر درس سے علماوفضلاء کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا تو ہم نے دیکھا ان کے مخاطب خواص کی نگاہیں تعجب اور حیرت سے مولانا کی طرف مڑگئیں- ان کے اس تعجب وحیرت کو خود مولانا صاحب نے بھی مشاہدہ کیا اور فرمایا آپ لوگ بڑے تعجب کررہے ہیں جب کہ حقیقت یہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے-کاش مولانا جمیل کی طرح سارے خواص تحقیق کو مذہب کے اختلافی مسائل کی بنیاد قرار دے کر فعالیت کرتے-

آج کے سیاسی،سماجی اور مذہبی معاملات میں لوگوں کی اکثریت کو اندہی تقلید کا شکار کرنے میں شعور سے تہی خواص کے پریپیگنڈوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے! تحقیق کے نام پر بعض مغرص افراد حق اور باطل کو آپس میں ملاکر کر عوام کے سامنے پیش کرنے کی بڑی مہارت رکھتے ہیں-ایسے افراد کی اس غلط حرکت کے باعث سادہ لوح عوام حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتے ہیں! آپ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرین بننے والا دعا زھراء کے کیس کو ہی لے لیجئے- جب ایک شریف گھرانے کی بیٹی اغوا ہوتی ہے اور والدین اپنی بیٹی کے لئے فریاد بلند کرتے ہیں تو جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اظہار ہمدردی کیا، ظہیر گینگ کی مجرمانہ حرکت کی بھر پور مزمت کرتے ہوئے ذمہ دار اداروں سے درخواست کی کہ وہ ایکشن لیں اور اغوا کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو فی الفور قانون کے کٹیرے میں لاکھڑا کرکے قوم کی بیٹی کو ان کی چنگل سے آذاد کرانے میں کردار ادا کریں- وہیں وطن عزیز پاکستان کے کچھ تعلیم یافتہ افراد ہمیں ایسا دیکھنے کو ملے جنہوں نے نہ صرف ظالموں کو بے نقاب کرکے قوم کی بے بس بیٹی کو نجات دلانے میں آواز نہیں اٹھائی بلکہ وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا مصداق بن گئے- انہوں نے اس خالص انسانی ناموس کے مسئلے کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر بیٹی کے والدین کے زخم پر نمک پاشی کی گئی- بعض افراد نے اس حوالے سے مجرم کے اس گناونی جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے لمبے لمبے آرٹیکلز بھی لکھے گئے- ان میں سے بعض کا ہم نے بھی اہمیت دے کر مطالعہ کیا،کیونکہ لکھنے والے ہماری نظر میں معتبر تھے- جب ان کی تحریروں کو پڑھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، کیونکہ انہوں نے تعصب کی عینک پہنکر ایسی بے بنیاد باتیں لکھی گئی تھیں جن کو مضحکہ خیز کا نام ہی دیا جاسکتا تھا- ایک صاحب نے بیٹی کے والد کے سید ہونے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے پاکستانی کے بجائے ایرانی قرار دیا،بیٹی کے اغوا کو مرضی کی شادی قرار دی، کمسن بچی کے ساتھ ہونے والے زنأ بالجبر کے شرعی مسئلے کو براہمن کے بنائے ہوئے ذات پات ہندؤوانہ سماج کی نفسیات، جاگیردارانہ ذہنیت، طبقاتی تقسیم اور مسلکی فرقہ پرستی کے رنگ میں عیاں کرنے کی کوشش کی گئی، کم عمر نابالغ بچی کو ورغلاکر غائب کرنے کو شادی کا لبادہ اوڑھ کر جرم کی پردہ پوشی کرنےکے لئے یہ لکھا گیا کہ اماں عائشہ اور ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی والدہ کی شادی بھی 12 سال کی عمر میں ہوچکی تھی، نابالغ بچی کو اپنے گھر سے بھگا کر اغوا کرنے کو پسند کی شادی قرار دیا، شیعہ اور بعض اہلسنت مکتب فکر کے ہاں بیٹی کی شادی کے لئے ولی کی اجازت شرط ہونا مسلم ہونے کے باوجود یہ لکھا گیا کہ شیعہ مذہب کی طرف سے ولی کی شرط کی کیفیت اسلام کے فلسفۂ نکاح اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے!انہوں یہ فتوی بھی دیا کہ شیعہ طریق میں ولی کی غیر لچکدار شرط غیر منطقی اور اسلام کی ہدایات کے منافی ہے۔دعا زہرا لاہور ہائیکورٹ کے بعد سندھ ہائیکورٹ سے بھی اپنے نکاح کی سند حاصل کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے والدین اور شیعہ کمیونٹی کی طرف سے اس کے نکاح کو زنأ قرار دیتے جانا انتہائی قابلِ نفرت رویہ ہے! اور بھی تہمتوں اور الزمات پر مبنی بہت ساری باتیں۔۔یہاں اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا کہ موصوف کی ساری باتیں بغیر کسی تحقیق کے ہوائی فائرنگ تھیں-وہ صاحب مطالعہ ہونے کے باوجود مذہبی تعصب کی وجہ سے حقائق لکھنے سے قاصر رہے-ذیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ دعا زھراء کے کیس کا رخ ہی چینچ ہوا-اس کے والد نے اپنی بیٹی کے لئے میدان میں ثابت قدم رہ کر آج یہ ثابت کردکھایا کہ میں پاکستانی شہری ہوں باغیرت سید ہوں میری بیٹی کو ظہیر گینگ نے اغوا کیا تھا نکاح شور جعلی تھا اور بچی کے نکاح کی صحت کے لئے نہ فقط شیعوں کے ہاں ولی کی اجازت شرط ہے بلکہ اہلسنت کے مفتی اعظم تقی عثمانی نے بھی کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ اہلسنت کے ہاں بھی ولی کی اجازت شرط ہے- اب کراچی ہائیکورٹ نے اس کیس کے سرغنہ مالی ٹپر ظہیر اور اس کے بھائی کو جیل کی بند کوٹھریوں کا مزاچھکایا ہے وہ جیل میں ہیں اور رہیں گے- انشاءاللہ ان کے دوسرے سہولت کار بھی جلد ان کے پاس پہنچ کر ذلت ورسوائی کا تاج پہننے پر مجبور ہوں گے-بہر صورت موصوف کو معلوم ہونا چاہئے آج کا دور تحقیق کا ہے اندہی تقلید کا نہیں- جو اندہی تقلید کا شکار رہتا ہے اس کے لئے احترام آدمیت اور انسانیت بے معنی ہوتا ہے-

تحقیق اور اندہی تقلید کے تناظر میں ان سوالات کا ذھن میں ابھرنا فطری ہے کہ کیوں بعض لوگ ہمیشہ دوسروں کی جان لینے کے درپے ہوتے ہیں؟کیوں ان کے لئے دوسرے انسانوں کی زندگی سے ذیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں ؟کیوں ایک ٹولہ اسلام کے نام پر خود مسلمانوں کو خاک وخون میں نہلانے میں اپنی عافیت تلاش کرتا ہے؟ کیا واقعی اسلام کی تعلیمات یہی ہیں کہ مسلمان اپنے کلمہ گو مسلمانوں کو قتل عام کرکے جنت کا مستحق قرار پائیں گے؟ کیا قرآن مجید اور سنت نبوی میں جہاد کا مفہوم یہی ہے کہ مسلمان اپنے ہی مسلمانوں کا گلہ کاٹیں ،انہیں ذبح کریں یا گولی سے بھون ڈالیں؟ کیا واقعتا کلمہ گو مسلمانوں پر مذہبی اختلافات کے باعث کفر اور شرک کے فتوے لگا کر ان کی جان مال کو اپنے لئے حلال قرار دینے کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ کیا اسلام کے اندر مسلمان اپنے مسلمان بهائیوں کا دشمن بن کر کفار سے دوستی کرنے کے لئے کوئی جواز موجود ہے؟ عقل اور منطق کا فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں متحد رہنے میں ان کی کامیابی مضمر ہے یا اختلافات میں؟ کیا انسانی عقل انسان کو یہ حکم نہیں کرتی کہ تمام معاملات زندگی میں سوچنا ہرگز نہیں بھولنا چاہیے، مذہبی امور میں چاہئے اصول ہوں یا فروع انسان کو ضرور غور کرنا چاہیے؟ کیا واقعی یہ ظلم نہیں کہ انسان کسی فرقے سے تعلق رکھنے والے کچھ جاہل وناداں افراد کے کردار اور کرتوت کو معیار بناکر کر اس فرقے کے ماننے والوں کے اعتقادات اور نظریات کے بارے میں سوفیصدی رای قائم کریں؟ کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ کسی فرقے یا مسلک کے قائلین کے نظریات کو سمجهنے کے لئے ان کے منابع اصلی شمار ہونے والی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور بہت سارے سوالات …. مگر افسوس ہمارے معاشرے کی اکثریت ان سوالوں پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی جس کی بنیادی وجہ اندہی تقلید کے زندان میں ان کا قید ہوکر رہنا ہے- روشن خیال پڑهے لکهے طبقوں کو تو کم از کم یہ سمجهنا چاہیے کہ اندہی تقلید کے بجائے انسان کو دلیل اور منطق کی بنیاد پر تحقیق کرکے دوسروں کے عقائد اور نظریات کی نفی یا تایید کرنا ہی معقول اور اصولی روش ہے – بغیر کسی تحقیق کے کسی کے بارے میں رای قائم کرنا توہمات وتخیلات کی دنیا میں زندگی گزارنے والوں کا کام تو ہوسکتا ہے عقلاء کا نہیں- جس دن مسلمان اندہی تقلید کے خول سے باہر نکل کر دلیل واستدلال کے ذریعے سیاسی، مذہبی اور سماجی مسائل وامور کو سمجهنے پر ایمان لائیں گے، ایک دوسرے کے مذہبی ماخذ کتابوں کو پڑهکر ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کو سمجهنے کی کوشش کریں گے اور سنی سنائی بے بنیاد باتوں کو چهوڑ کر، اندہی تقلید کی دنیا سے باہر نکل کر وسعت ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے افکار اور خیالات کو درک کرنے کی سعی کریں گے یقین کیجئے اس دن سے بہت سارے روحی امراض جیسے لسانی، قومی، مذہبی تعصبات کا خاتمہ ہونا شروع ہوجائے گا-بےشک آج کا دور تحقیق کا ہے اندہی تقلید کا نہیں-

+ نوشته شده در 2022/9/5 ساعت 13:3 توسط حسن جمالی  | 

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 43 تاريخ: پنجشنبه 16 شهريور 1402 ساعت: 19:13

صفحه بندی