فقط سیاست ہی اہل قلم کا پسندیدہ موضوع کیوں؟

خرید بک لینک

فقط سیاست ہی اہل قلم کا پسندیدہ موضوع کیوں؟

تحریر:محمد حسن جمالی

قلمی طاقت کا تعلق براہ راست انسان کے افکار سے ہے- یہ انسان کے افکار میں مثبت یا منفی انقلاب برپا کرسکتی ہے-سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر لکھنے والا اپنی قلمی طاقت کے بل بوتے پر انسانوں کے افکار میں تبدیلی لاسکتا ہے؟ کیا دوسروں کے ذہنوں پر مثبت اثرات چھوڑنے کے لئے فقط قلمی ہتھیار سے لیس ہونا کافی ہے؟ جواب بالکل واضح ہے-کوئی بھی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ صرف قلمی طاقت رکھنے والا انسان انقلاب آفرین ہوتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے افکار میں تبدیلی لانے کے لئے حسن فعلی کے ساتھ حسن فاعلی کا ہونا بھی شرط ہے- انسان کے پاس قلمی طاقت ہونا اس کے ہاتھ میں چاقو ہونے کی مانند ہے- استعمال کرنے والے پر موقوف ہے کہ وہ اس سے کیسے استفادہ کرتا ہے؟ظاہر ہے چاقو سے دوطرح کا استفادہ کیا جاسکتا ہے:انسان اس سے دوسروں کا پیٹ بھی چاک کرسکتا ہے اور اسے گوشت، سبزی وغیرہ کاٹنے میں بھی بروے کار لاسکتا ہے-اسی طرح قلمی طاقت مثبت ومنفی دونوں طرح کے مقاصد کے حصول کےلئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے-یہ تب دوسروں کی فکری تبدیلی و انقلاب کا محرک بن سکتی ہے جب اس کےحامل افراد اسے امانت الہی سمجھتے ہوئے اپنے اہداف کی راہ میں استعمال کرنے کے پابند ہوں- اس ذمہ داری کے احساس کا ادراک فقط ان اہل قلم دانشمندوں کو ہوسکتا ہےجو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوتے ہیں-ایسےقلمکاروں کو ہی اس بات پر باور قلبی ہوتا ہے کہ انسان کے بے تحاشا مجہول مسائل اور گوناگون مشکلات میں سے ایک سیاسی دنیا کی پیچیدگیاں ہیں- کامیاب قلمکار وہ ہیں جن کی نظر انسانی اور معاشرتی تمام مسائل پر ہوتی ہے-ان کی نگاہ فقط سیاسی موضوع پر اٹکی نہیں رہتی-

تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے میں قلمی طاقت نے نمایاں کردار ادا کیا ہے-تاریخی کتب وآثار کے مطالعے سے دلچسپی رکھنے والے اہل علم جانتے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی انقلابات رونما ہوئے ہیں ان میں سب سے ذیادہ اہل قلم کا رول تھا-انہوں نے اپنی قلمی طاقت کے ذریعے اپنے لوگوں کے افکار کو مستحکم کیا،ان کو کامیابی کے اسرار ورموز سے واقف کرایا،ان میں احساس کمتری کو ختم کرکےخود اعتمادی کی صلاحیت پیدا کی، منزل مقصود تک پہنچانے والے صاف راستوں کی طرف ان کی راہنمائی کی، انہیں یہ باور کرایا کہ دوسروں کی غلامی میں زلت سے بسر کی جانے والی زندگی حقیقت میں موت ہے اورمیدان میں نکل کر ظالموں کا مقابلہ کرنا بہادر و غیور انسانوں کی نشانی ہے-چنانچہ لوگ اہل قلم کی حقیقت پر مبنی باتوں سے متاثر ہوئے-وہ عزم بالجزم سے میدان میں نکلے، اپنے حریف ظالم وجابر حکمرانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے،ان کے ساتھ پوری طاقت سے مقابلہ کیا اور ان کے برے عزائم کو خاک میں ملاکر سکون کا سانس لینے میں وہ کامیاب ہوگئے-

موجودہ دور میں ہمارے لکھاریوں کی اکثریت کی توانائیاں فقط سیاسی مسائل پر خرچ ہوتے دکھائی دیتی ہیں-المیہ یہ ہے کہ سیاسی موضوع پر قلمی طاقت کا بے دریغ استعمال کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ایسی ہے جو سیاست کے مفہوم اور اس کے بنیادی اغراض ومقاصد تک سے واقف نہیں- بس آنکھیں بند کرکے اپنی پارٹی کی صفائیاں پیش کرتے ہوئے اپنے حریف پارٹی کے خلاف پریپیگنڈہ پھیلانے کو وہ سیاست سمجھتی ہے،جس کے پیچھے ان کے ذاتی مفادات ہوتے ہیں!

قلمی طاقت رکھنے والے افراد جب تربیت کی دولت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ معمولی مالی مفادات کے حصول کے لئے قلم فروشی اور ضمیر فروشی کا بازار گرم کرنے میں دیر نہیں لگاتے-ایسے افراد قلمی طاقت کے ذریعے نسلوں کی تباہی کا سامان فراہم کرتے ہیں-وہ تاریخ بشریت کے مردہ ضمیر افراد کی صف میں شامل ہوکر آنے والی قوموں اور نسلوں کے لئے عبرت کی مثال بنتے ہیں-آج پاکستان کی سیاسی خراب صورتحال آپ کے سامنے ہے-موروثی سیاست کے ٹھیکداروں نے سیاست کے میدان میں وہ بدبو دارگند پھیلایا ہوا ہے جس کی مثال آپ کو شاید پاکستان کی تاریخ میں نہ ملے-ملک نابوی کے دھانے پہنچا ہوا ہے، مہنگائی غریب عوام کی کمر توڑ رہی ہے،ارشد شریف اور عمران ریاض جیسے حقائق سے پردہ اٹھانے والے بے باک صحافیوں کو قتل، دہمکی ٹارچر جیسے اذیتناک حالات کا سامنا کرنا پڑھ رہے ہیں، پاکستان قرضے کے سمندر میں غرق ہونے کے قریب ہے، قومی خزانہ دونوں ہاتھوں سے صاف کرکے اپنی نسلوں کے لئے دیار غیر میں جائداد بناکر پاکستان کوکنگال کرنے والوں نے مجرموں کی لسٹ سے اپنے نام نکال پھینکے ہیں- جس کے لئے ان خائنوں نے اقتدار کی طاقت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے پہلے نیب قوانین میں تصرف کیا ان میں اپنی مرضی سے ایسی باتوں کا اضافہ کردیا گیا جن سے انہیں جرائم کی دلدل سے باہر نکلنے کی سبیل ہموار ہوسکتی تھی- یوں لومڑی کا چال چلا کر انہوں نے ایک ایک کرکے بظاہر کیسیز سے جان چھڑالی گئی اور عوام ہاتھ مسلتے رہ گئے-حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی سادہ لوح عوام کی ایک خاصی تعداد ان غداروں کو سیاست کے چمپین بناکر پیش کرنے میں سرگرم نظر آتی ہے!

سوال یہ ہے کہ سادہ لوح عوام کو ان کی طرف داری پر مجبور کرانے کا محرک کیا ہے؟ ادنی سی توجہ سے معلوم ہوگا کہ وہ محرک قلمی طاقت کے تقدس کو پائمال کرنے والے نام نہاد صحافیوں کا وہ ٹولہ ہے جسے موروثی سیاست کے وارثوں نے خریدا ہوا ہے-یہی ٹولہ شب وروز اپنے چینلز پر بیٹھ کر حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرتا ہے،حق کو باطل اور باطل کو حق، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر پیش کرتا رہتا ہے- اس ٹولے کا ہم وغم یہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آقاوں کے جرائم پر پردہ ڈالاجائے اور حقائق عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہے -جب تربیت سے تہی ظاہرا پڑھے لکھے افراد کے پاس قلمی طاقت کا ہتھیار آتا ہے تو وہ ظالم کی خشنودی حاصل کرنے کے لئے مظلوم پر مظالم کے پہاڑ توڑ گرانے میں دیر نہیں کرتے-صحافی اور قلمکار جب سماجی اخلاقی اور تربیتی مسائل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ فقط سیاسی گھتیاں سلجھانے پر مرکوز کرتے ہیں تو ظاہر ہے خالص انسانی مسائل اور مشکلات اپنی جگہ لاینحل رہیں گے اور عام لوگوں کی نظروں سے وہ پوشیدہ رہیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بہت سارے مظلوموں کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوگی بطور مثال عرصے سے بعض مغرض افراد کے ہاتھوں پاکستان کی سرزمین پر رہنے والے بہت سارے بے گناہ محب وطن افراد کے خلاف غلط ایف آئی آر کا پرچہ کٹ رہا ہے یہ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا-شنید ہے حال ہی میں کوئٹہ سے مولانا محمد حسین وجدانی پر بھی کچھ مغرض افراد نے غلط تہمت پر مبنی ایف آئی آر کا پرچہ بناکر غائب کرواگیا ہے- ذرائع کے مطابق انہوں نے کسی اجتماع میں سید المرسلین کی دلعزیز بیٹی حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا پر ڈھائے جانے والے مصائب کا تذکرہ کیا تھا جو بعض کی نازک طبیعت کو راس نہ آئی- واقعتا یہ ہر باشعور پاکستانی مخصوصا کلمہ گو مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ رسول کی لخت جگر بیٹی کے حوالے سے تاریخی حقائق بیان کرنا اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہوئی مملکت میں جرم ہے تو پھر پاکستان میں آذادی بیان کہاں رہی؟ وطن عزیز کے خلاف آئےروز بکواسات بکنے والےپاکستانی اداروں کے خلاف کھل کر بولنے والے اور قلم وزبان سے قوم وملک کی جڑیں کاٹنے والے تو آذاد رہے، ان پر کسی قسم کی پابندی لگانے کو آذادی بیان کے خلاف سمجھا جائے، مگر جب خاتم المرسلین کی دختر نیک اختر کی زندگی سے متعلق کوئی تاریخی مسلمات پر گفتگو کی جائے تو وہ مجرم ٹھرے- کیا یہ ناانصافی نہیں؟ مولانا وجدانی پر ایف آئی آر کا پرچہ کٹوا کر لاپتا کروانے والوں کو ٹھنڈے دماغ سے یہ سوچنا چاہئے کہ وہ گوشہ رسول خاتون محشر صدیقہ کبری حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کی مقدس زندگی کے حالات کو چھپانے کی کوشش کرکے علم دشمنی کا ثبوت فراہم کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟کیا دانشمندی کا تقاضا یہ نہیں کہ امت پیغمبر ہونے کے ناتے سارے مسلمان آپ کی اس عظیم المرتبت بیٹی کی سیرت طیبہ کو سمجھنے کے لئے عمیق مطالعہ کریں اور ان کی پاکیزہ زندگی کے حالات پر تحقیق کرکے حقائق تک رسائی کی جدوجہد کریں، تاکہ روز محشر پیغمبر خاتم کے سامنے سرخرو ہوسکیں- صاحب بصیرت قلمکار سیاسی، سماجی،اقتصادی مسائل سمیت انسانی زندگی کے جملہ مسائل پر قلم اٹھانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں-آج غیرسیاسی موضوعات پر لکھنے والے قلمکاروں کی تعداد انگشت بشمار ہے- ہمارے تجزیہ نگار قلمکاروں کے روئیے کو دیکھ کر ہر ایک کے ذھن میں اس سوال کا ابھرنا فطری ہے کہ فقط سیاست ہی اہل قلم کا پسندیدہ موضوع کیوں؟

+ نوشته شده در 2022/12/10 ساعت 23:37 توسط حسن جمالی  | 

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 42 تاريخ: پنجشنبه 16 شهريور 1402 ساعت: 19:13

صفحه بندی