اسلامی قوانین میں لچک کا راز

خرید بک لینک

اسلامی قوانین میں لچک کا راز

تحریر:محمد حسن جمالی

اسلامی مفکر اعظم شھید مطہری فرماتے ہیں کہ دین مبین اسلام میں ایسے رموز واسرار ہیں جن کی بدولت اسلام میں زمانے کی ترقی وپیشرفت کے ساتھ منطبق ہونے کی خاصیت پیدا ہوئی ہے۔وہ اس بات پر باور رکھتے ہیں کہ دین اسلام کے قوانین زمانے کی ترقی اور ثقافت کی پیشرفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہیں۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ راز کیا ہے؟دوسرے لفظوں میں،وہ میخ پیچ اور سریا وغیرہ جو اس مذہب کی عمارت کی تعمیر میں استعمال ہوئے ہیں جن کی بدولت دینی قوانین میں تحرک کی خاصیت پیدا ہوئی ہے وہ کونسی چیزیں ہیں؟

اس حقیقت کا راز کہ اسلام کا مقدس دین اپنے ثابت اور غیر متغیر اصولوں کے ساتھ تہذیب و تمدن کی پیشرفت سے ہم آہنگ ہے اور زندگی کی بدلتی ہوئی صورتوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے،کئی چیزیں ہیں۔پہلی چیز اسلام کا روح اور معنی کی طرف توجہ کرنا اور شکل و صورت سے اس کا بے نیاز ہونا ہے۔اسلام نے زندگی کی ظاہری شکل و صورت جو مکمل طور پر انسانی علم کے میزان سے وابستہ ہے پر توجہ نہیں دی ہے بلکہ اسلامی احکام کا تعلق زندگی کی روح، معنویت اور مقصد سے ہے اور ان کے حصول کے لیے انسان کو بہترین طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔علم نہ زندگی کے مقصداور روح کو تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس نے زندگی کے اہداف کی طرف بہتر،قریب تر اور محفوظ راستے کی نشاندہی کی ہے۔علم ہمیشہ زندگی کے اہداف کے حصول اور ان مقاصد تک پہنچنے کا راستہ طے کرنے کے لیے انسان کو بہتر اور کاملتر ذرائع فراہم کرتا ہے۔اسلام نے اہداف کو اپنے دائرے میں رکھ کر اور وسائل کو علم اور ہنر کے دائرے میں چھوڑ کر ثقافت اور تہذیب کی ترقی سے کسی بھی طرح کے ٹکراؤ سے گریز کیا ہے۔بلکہ تہذیب کی وسعت اور ترقی کے عوامل یعنی علم، کام، تقویٰ، ارادہ، کوشش اور استقامت کی ترغیب دے کر اس نے تہذیب وتمدن کی ترقی میں بنیادی سبب کا کردار ادا کیا ہے۔

اسلام نے بنی نوع انسان کے سفر کے خطوط میں شاخص (اشارئیے) نصب کئے ہیں۔یہ اشارے ایک طرف راستہ اور منزل بتاتے ہیں تو دوسری طرف انحراف، زوال اور تباہی کے خطرے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔۔۔اسلام کے سارے قوانین کا تعلق یا پہلی قسم کے شاخص(اشارے) سے ہے یا دوسرے شاخص کے نوع سے۔ہر زمانے میں زندگی کے وسائل اور ابزار اسی زمانے کی معلومات اور انسان کے علمی اطلاعات کے اندازے سے وابستہ ہیں۔جتنا معلومات اور اطلاعات کا دائرہ وسیع ہوگا اتنا ہی کاملتر وسائل وابزار نصیب بشر ہوں گے۔اسلام میں آپ کو کوئی ایسا وسیلہ یا کوئی ظاہری اور مادی شکل نہیں مل سکتی جس میں ’’تقدس‘‘ کا پہلو ہو اور کوئی مسلمان اپنے آپ کو ان اسباب اور شکل کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کا پابند سمجھے۔

اسلام نے یہ نہیں کہا کہ درزی، بنائی، زراعت، نقل و حمل، جنگ یا اس قسم کا کوئی اور کام کسی خاص آلے سے کیا جائے اور جب علم کی ترقی کے ساتھ وہ آلہ متروک ہو جائے تو علم اور اسلام کے دستور میں تضاد یا تناقض پیدا ہو جائے۔اسلام نے نہ جوتوں اور کپڑوں کا کوئی مخصوص فیشن لایا ہے اور نہ ہی عمارتوں کے لیے کسی خاص طرز اور اسٹیل کو مدنظر رکھا ہے۔اسی طرح اس نے پیداوار اور تقسیم کے لیے کسی مخصوص آلات کا تعین نہیں کیا ہے۔ یہ ان پہلوؤں میں سے ایک ہے جس نے اس دین کو وقت کی ترقی پر منطبق ہونے کو آسان بنا دیا ہے۔

+ نوشته شده در 2024/6/15 ساعت 3:37 توسط حسن جمالی  | 

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 20 تاريخ: شنبه 30 تير 1403 ساعت: 18:38

صفحه بندی