اسلامی تعلیم وتربیت کی تین اہم خصوصیات
تحریر:محمد حسن جمالی
ہم مسلمان اس بات پر باور رکھتے ہیں کہ کائنات میں موجود تمام مکاتب فکر کی نسبت اسلام وہ واحد مکتب ہے جو سب سے جامع ہے،انسان کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے اس نےنظر انداز کیا ہو،اس میں انسانی زندگی سے متعلق چھوٹے بڑے تمام کاموں کے لئے احکام موجود ہیں اور اس کے دامن میں انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کے لئے بے نظیر قوانین پائے جاتے ہیں-غرض اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے-یہ وہ دین ہے جس کی تعلیمات میں کسی قسم کا تضاد وٹکراو نہیں- اس کی تعلیمات عقل اور فطرت بشر کے عین مطابق ہیں،ان تعلیمات میں انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کا چہرہ شفاف کرکے دکھایا گیا ہے،ان میں دونوں جہانوں میں انسان کی سعادت کے بھیدوں اور رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے،ان میں انسان کو اپنی ذات کی شناخت اور اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنے پر سب سے ذیادہ تاکید ہوئی ہے اوران میں تعلیم وتربیت کو ہی انسانیت سازی اور معارف حقہ کی پہچان کا ذریعہ کہا گیا ہے-اسلامی تعلیم اورتربیت کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا سر چشمہ وحی الہی ہے،جس کے ذریعے پیغمبر مکرم اسلام نے اللہ تعالی سے معارف حقہ کو وصول کرکے عالم انسانیت کی خدمت میں پیش کردیا-قرآن ناطق وصامت جیسے پاکیزہ ذرائع سےانسانی معاشرے اسلامی تعلیمات اور اس کے تربیتی اصولوں سے واقف ہوچکے-قرآن صامت کے حوالے سے مولای متقیان نے فرمایا: قرآن،علم کا چشمہ اور سمندر، عدالت کا باغ اور حوض،اسلام کا سنگ بنیاد اور اساس، حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے۔
اسلامی تعلیم وتربیت کی دوسری بڑی خصوصیت عالم محضرخدا ہونے پر انسان کو یقین کی دولت بخشنا ہے-واضح سی بات ہے جب انسان کو اس بات پرغیرمتزلزل یقین ہوجائے کہ کائنات،خالق دوجہاں کے سامنے ہے،انسان کے تمام حرکات و سکنات اس کے تحت نظر ہیں،خلوت اور جلوت میں سرانجام دینے والے اعمال اس سے ہرگز پوشیدہ نہیں،انسان کے سفراور حضر کی تمام فعالیتوں پروہ ناظر ہے،انسان جہاں رہے جس حالت میں رہے وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہے اوراسے ایک لمحے کے لئے بھی اس کی ولایت سے نکل کراس کی نگاہ سے اوجہل ہونا ممکن نہیں تو بلاتردید یہ عقیدہ انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کرتا ہے،اسے فرشتوں کی صف میں لاکھڑا کرتا،اسے صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے،اسے ناشائستہ اور قبیح اعمال وحرکتوں سے روکتا ہے ،اسے خداپسند کاموں کی بجاآوری کی ترغیب وتشویق دلاتاہے،اسے امن وانصاف کا پیامبر، نیکیوں کا عاشق ودلداہ اورانسان دوست بناتا ہےاوروہ اسے کمالات انسانی سے مالامال کرنے کا سبب بنتاہے-اسلامی تعلیم وتربیت کے اصلی منابع میں اس خصوصیت کی طرف اشارہ ہوا ہے-ارشاد رب العزت ہے:«وَ هُوَ مَعَكُمْ ايْنما كُنْتُمْ وَ اللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ بَصيرٌ»تم جہاں کہیں ہوں وہ تمہارے ساتھ ہے:اور اللہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔«وَ نَحْنُ اقْرَبُ الَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَريدِ»ہم انسان کی شہہ رگ سے ذیادہ اس کے قریب ہیں۔ خدائے متعال نے انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ تمہارے مخفی وعلانیہ طور پر بجالانے والے سارے اعمال کو خدا جانتا ہے «يَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَ ما يُعْلِنُونَ انَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ» جب اللہ تعالی نے جناب موسی اور ہارون سے کہا تم دونوں فرعون کی طرف جاو وہ سرکش ہوگیا ہے ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہمیں یہ خوف ہے کہ وہ کہیں ہم پر زیادتی نہ کرے یا اور سرکش نہ ہوجائے اس موقع پر خدا نے فرمایا: «لا تَخافا انَّنى مَعَكُما اسْمَعُ وَ ارى» میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ دیکھ بھی رہا ہوں اور سن بھی رہا ہوں ۔جب حضرت نوح کشتی بنانے میں بے ایمان لوگوں سے خائف ہوئے اس موقع پر خدا نے فرمایا: «وَاصْنُعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا» تم ہماری نگاہوں کے سامنے ہماری وحی کی نگرانی میں کشتی تیار کرو-(ہود ٣٧)والله شهید علی ما تعلمون -خدا تمہارے اعمال ورفتار سے آگاہ ہے-قَالَ یَا قَوْمِ أَرَأَیْتُمْ إِن کُنتُ عَلَىَ بَیِّنَةٍ مِّن رَّبِّی وَ رَزَقَنِی مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَ مَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلَى مَا أَنْهَاکُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِیدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَ مَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللّهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْهِ أُنِیب -شعیب نے کہاکہ اے قوم والو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں خدا کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے بہترین رزق عطا کردیا ہے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا ہوں کہ جس چیز سے تم کو روکتا ہوں خود اس کی خلاف ورزی کروں میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہو میری توفیق صرف اللہ سے وابستہ ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف میں توجہ کررہا ہوں-امام حسین(ع) نے دعائے عرفہ میں جابجائے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔مثلا" معارف الہیہ کا سمندر شمار ہونے والی اس عظیم دعا کی ایک جگہ فرماتے ہیں:عْلَمُ خائِنَهَ الاَْعْیُنِ وَما تُخْفِى الصُّدُورُ وَ غَیْبَ ما تَاْتى بِهِ الاَْزْمِنَهُ وَالدُّهُورُ یا مَنْ لا یَعْلَمُ کَیْفَ هُوَ اِلاّ هُوَیا مَنْ لا یَعْلَمُ ما هُوَ اِلاّ هُوَ یا مَنْ لا یَعْلَمُهُ اِلاّ هُوَ یا مَنْ کَبَسَ الاَْرْضَ عَلَى الْمآءِ وَسَدَّ الْهَوآءَ بِالسَّمآءِ یا مَنْ لَهُ اَکْرَمُ الاَْسْمآءِ یا ذَاالْمَعْرُوفِ الَّذى لا یَنْقَطِعُ اَبَدا-وہ آنکھوں کے اشاروں کو اور جوسینوں میں چھپاہے اسے جانتا ہے اور ان غیب کی باتوں کو جانتا ہے جو آیندہ زمانوں میں ظاہر ہونگی اے وہ جسکی حقیقت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود اے وہ جس کی حقیقیت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود ا اے وہ کوئی جسکا علم نہیں رکھتا مگر وہ خود اے وہ جس نے زمین کو پانی کی سطح پر رکھا ہوا اور ہوا کو فضائ آسمان میں باندھا اے وہ جس کیلئے سب سے بہترین نام ہے اے احسان کے مالک جو کسی وقت میں منقطع نہ ہوتا-ایک جگہ آپ نے فرمایا:''متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک و متی بعدت حتی تکون الآثار ھی التی توصل الیک ، غمیت عین لا تراک علیھا رقیبا'' ۔ تو کب پوشیدہ تھا جو دلیل کی ضرورت ہو جس کے ذریعہ تجھے پہچنوایا جائے ؟ اور کب ہم سے دور ہوا ہے تاکہ تیرے آثار ہم تک پہنچ جائیں ؟ اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جو تجھے اپنے نزدیک اور محافظ نہ دیکھیں-طبیعی بات ہے جب انسان اپنے اعمال پر اللہ تعالی کو ناظر وعالم سمجهے گا تو وہ اس کی مخالفت نہ کرنے کی بهرپور سعی کرے گا-بعض کے خیال میں انسان اور خدا کا علم یکساں ہے-جس طرح انسان کے علم سے مراد اشیاء کی کلی یا جزئی صورت ذہن میں چھپ جانا ہے اور اس کا علم اس کی ذات پر زائد چیز ہےبالکل اسی طرح انسان کے تمام کاموں اورحرکات وسکنات کے بارے میں خدا علیم وخبیر ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب فرشتے انسان کے نامہ اعمال میں اس کی رفتار،گفتار اور کردار سے متعلق گزارش لکھ کرخدا کو پیش کرتے ہیں تو ان چیزوں کے بارے میں خدا باخبر ہوتا ہے،لیکن اگر وہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کےاعمال کی گزارش ثبت وضبط کرکے اللہ کے حضور پیش نہ کردیئے جائیں تو نعوذ باللہ وہ ان سے آگاہ نہیں ہوتا!مشہور واقعہ ہے کہ ابن تیمیہ نے ایک مرتبہ مسجد دمشق کی ممبر پر چڑھ کر یہ حدیث سنائی کہ ہر شب جمعہ کو اللہ تعالی آسمان سے زمین کی طرف آتا ہے اور توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے پھر اپنی جگہ سے نیچے اتر کر اس نے کہا جس طرح میں اس ممبر سے نیچے آیاہوں اسی طرح خدا بھی آسمان سے اتر کر لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر آتا ہے اور ان میں اپنی رحمت بانٹتا ہے!یہ تصور انتہائی مضحکہ خیز،بے بنیاد اور اوج جہالت کی نشانی ہے،جس کی کوئی اہمیت نہیں-اس طرح کا تصور بشر کی کم معرفتی کا نتیجہ ہوتا ہے-علم خدا کے حوالے سے فلسفی وکلامی مفکرین کے نظریات مختلف ہیں-اسلامی مفکر مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی رحمت اللہ علیہ نے علم الہی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے:کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی موجود کو تو خلق کرے مگر اسے نہ جانتا ہو؟ہم اپنے ذہن میں جب کسی پھول کی تصویرکشی کرتے ہیں تو کیا ممکن ہے ہمیں یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم نے کس چیز کی صورت کا تصور اپنے ذہن بٹھایا ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سیب کی تصویر اپنے ذہن میں توایجاد کریں،مگر اس کی شکل سے ہم جاہل ہوں -پس علم کے بغیر خلقت ممکن ہی نہیں-قرآنی نصوص کے مطابق اللہ تعالی آسمان وزمین میں موجود تمام موجودات اور تمام حوادث واتفاقات کے کلیات اور جزئیات سے بخوبی باخبر ہے-اللہ کا ارشاد ہے:هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ-یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْأَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنزِلُ مِنَ السَّمَاء وَمَا یَعْرُجُ فِیهَا وَهُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنتُمْ وَ اللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیر -وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہرہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر غالب ہوا(اپنا اقتدار قائم کیا)وہ اسے بھی جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور اسے بھی جو اس سے باہر نکلتا ہے اور اسے بھی جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس کی طرف چڑھتا ہے اوروہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اسے دیکھ رہا ہے-"أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا هُوَ معهم" کیا تم نے نہیں دیکھا(غور نہیں کیا)کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کہیں بھی تین آدمیوں کی سر گوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتاہے اور نہ پانچ کی ہوتی ہے مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر یہ کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے؟یقیناً اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
اسلامی تعلیم وتربیت کی تیسری اہم خصوصیت قانون فطرت کے مطابق زندگی کے امور کو سرانجام دینے پر انسان کو ابھارنا ہے-اسلام کی تعلیمات میں کوئی ایسی بات دیکھنے کو نہیں مل سکتی جو اصول وقوانین فطرت سے متصادم ہو،بلکہ ان میں انسان کی فطری صلاحیتوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں پروان چڑھانے پر تاکید ہی نظر آئے گی۔ان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ دیکھنے کو ملے گا کہ اسلام کے سارے قوانین واحکام فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں،اس کاکوئی حکم فطرت کے خلاف نہیں ہے-مثال کے طور پر اسلام کے مسلمہ احکامات میں سے ایک حجاب کا حکم ہے-اس مسئلے پر گہری فکر کرنے والے اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ حجاب کا حکم عورت کی فطرت کے عین مطابق ہے-گرچہ یورپی اور مغربی نام نہاد روشن خیال مفکرین مختلف توجیہات اور بے بنیاد فلسفے تراشتے ہوئے مسئلہ حجاب کو عورت کی آزادی کا منافی قرار دینے پر مصر ہوتے ہیں-اسی طرح انہوں نے اسلامی تعلیمات کا واضح حکم (حجاب) کے حوالے سے تعلیم یافتہ طبقے کے ذہنوں میں طرح طرح کے شبهات ایجاد کیا ہے۔چنانچہ ان کی تلقینات اور تبلیغات سے متاثر ہوکر آج مسلم معاشرے کی عورتوں میں بھی عریانیت اور فحاشیت کا رجحان مسلسل بڑھتا جارہا ہے-بے پردگی کی قباحت اور برے نتائج سے نظریں چرانے کا چلن نسل جدید کی صنف نازک میں عام ہوتا جارہا ہے-عورت کو اسلامی حجاب میں رہ کر سماج میں اپنی استعداد اور توانائی کے بل بوتے پر فعال کردار ادا کرنے کو وہ خواب سمجهتی ہیں،درحالیکہ یہ تصور جہالت پر مبنی ہے-ایک معقول ومنطقی معروف اصول ہے کہ ادل الدلیل علی امکان الشئی وقوعہ-ترجمہ یہ ہے کہ کسی چیز کے ممکن ہونے پر بہترین دلیل خارج میں اس کا واقع ہونا ہے-علمی شخصیات نے اپنے علمی آثار میں اس اصول کو مختلف مقامات پرفراوان استعمال کیا ہے-ہم بھی یہاں اسی اصول سے استفادہ کریں گے-ایرانی معاشرے میں عورتیں اسلامی حجاب میں رہ کر زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ فعالیت سرانجام دے رہی ہیں۔وہ حجاب میں ڈاکٹر، پارلیمنٹ کا نمائندہ، لیکچرار،خبرنگار،تجزیہ نگار وو... بن کر معاشرے کی ترقی وپیشرفت میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں-یہ اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ حجاب عورتوں کی ترقی کی راہ میں بالکل حائل نہیں-اس طرح کی باتیں کرنے والے اپنی جہالت کا ہی مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں-حجاب کا حکم نص قرآن سے ثابت ہے-اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے:یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّاَزوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ المُؤمِنِینَ یُدنِینَ عَلَیہِنَّ مِن جَلَابِیبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدنٰٓی اَن یُّعرَفنَ فَلَا یُؤذَینَ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُورًا رَّحِیمًا» اے نبی(ص)آپ اپنی بیویوں،بیٹیوں اور(عام) اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ(باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر چادر (بطور گھونگھٹ) لٹکا لیا کریں یہ طریقہ قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے- دوسری جگہ فرمایا:وَ اِذَا سَاَلتُمُوہُنَّ مَتَاعًا فَسئَلُوہُنَّ مِن وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِکُم اَطہَرُ لِقُلُوبِکُم وَ قُلُوبِہِنَّ وَ مَاکَانَ لَکُم اَن تُؤذُوا رَسُولَ اللّٰہِ- نبی کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو یہ تمہارے لیے اور اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے ۔تمہارے لیے یہ ہرگزجائزنہیں کہ ﷲ کے رسول کو تکلیف دو ۔وَ قَرنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجنَ تَبَرَّجَ الجَاہِلِیَّۃِ الاُولٰی(اے خواتین اسلام) تم اپنے گھروں میں رہا کرواور دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرا کرو۔حجاب کا حکم فطرت سے ہماہنگ ہے۔اگر حجاب عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوتا تو وہ دوام واستحکام کا حامل نہ ہوتا اور طول تاریخ میں وہ تمام ادیان الہی کی ثقافت کا مضبوط جز قرار نہ پاتا-بدون شک حجاب عورت کی فطری حیا وعفت کے ساتھ سازگار ہونے کے علاوہ مرد کی فطری غیرت کا بھی تقاضا ہے۔غیرت مند شوہر کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیوی باپردہ ہو،بیٹے بھی چاہتے ہیں کہ ماں عفیف اور محجبہ رہے، یہاں تک کہ ناپاک اور بدکردار عورت بھی شروع میں اپنی فطرت کی آوازکو دباکرکسی کے سامنے اپنی بدکرداری کا کھلا اظہار نہیں کرسکتی،بلکہ وہ پہلے خود کو سالم وعفیف عورت کے طور پر نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔حجاب فطری ہونے پر ایک شاہد یہ ہے کہ جو لوگ شہوت اور نفس امارہ کے ہاتھوں اسیر ہوتے ہیں وہ بدکاری کے لئے خلوت مکان کی تلاش کرتے ہیں-سب کے سامنے وہ مرتکب گناہ کی جرات نہیں کرپاتے، کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ معاشرہ انسانی کی فطرت اور عریانی وشہوانی ثقافت میں کوئی ہماہنگی نہیں-البتہ مغربی معاشرے میں طویل عرصے سے غریزہ فطرت پر،نفس روح پر اورحیوانیت انسانیت پر غلبہ پیدا کرچکی ہے-جس کی وجہ سے اس معاشرے کے تمام شعبوں میں حیوانیت کا ہی راج ہے،اس میں انسانیت مررہی ہے، مفاسد اخلاقی کا دودورہ ہے،خانوادگی کا نظام نابود ہورہا ہے، والدین کی تذلیل عام ہوتی جارہی ہے، نامشروع اولاد کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ازدواجی زندگی کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے،خود کشی معمول بنتی جارہی ہے،جنایت کاری اور مظالم کی قباحت ختم ہورہی ہے اورنفسیاتی الجهنیں بڑھتی جارہی ہیں-
+ نوشته شده در 2024/6/8 ساعت 16:40 توسط حسن جمالی |
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 18 تاريخ: شنبه 30 تير 1403 ساعت: 18:38