قرآن مجید کی آیات میں مسئلہ شناخت (3)

خرید بک لینک

قرآن مجید کی آیات میں مسئلہ شناخت (3)

تحریر : محمد حسن جمالی

 قرآن کی متعدد آیات میں  عناصر خلقت کے داخلی نظام کا تذکرہ ہوا ہے ـ وجودو عدم، مبداء ومعاد اور ان کے درمیان حد فاصل قرار پانے والی چیزوں کے بارے میں بحث ہوئی ہےـ  اسی طرح  بعض آیات قرآنی میں نظام ہستی اور اس کے اجزاء کے داخلی رابطوں سے متعلق مطالب بیان ہوئے ہیں  مثلا وہ آیات جو سورہ مبارکہ تبارک کے شروع میں ذکر ہوئے ہیں ۔ 
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ھوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہےـ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙـ اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور وہ بڑا غالب آنے والا، بخشنے والا ہے۔ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی اپنی تفسیر الکوثر میں اس آیت کے تفسیری نکات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس آیت میں کائنات کی ہر شے پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ کے مصادیق کا ذکر ہے۔

۱۔ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ: وہ ذات جس نے موت کو خلق کیا۔ موت، عدم حیات کا نام ہے اور عدم، مخلوق نہیں ہے چونکہ خلق، ایجاد کا نام ہے۔ جب خلق ہوا تو وجود میں آنا چاہیے؟ اس سوال کا حل یہ ہے: موت، عدم حیات کا نام نہیں ہے بلکہ انتقال حیات کا نام ہے۔ چنانچہ مادہ بذات خود حیات کا حامل نہیں ہوتا۔ مادے میں خاص شرائط موجود ہونے کی صورت میں حیات جنم لیتی ہے۔ مثلاً جدید انکشافات کے تحت ڈی این اے کے تین ارب چھوٹے سالموں کے منظم ترتیب میں آنے سے اللہ تعالیٰ اس میں حیات ڈال دیتا ہے اور موت یہ ہے کہ اس منظم ترتیب میں خلل آنے سے اللہ وہاں سے حیات نکال دیتا ہے۔ لہٰذا حیات کا نکال دینا ایک تخلیقی عمل ہے۔

۲۔ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا: تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے احسن عمل کی منزلت پر فائز ہونے والا کون ہے۔ غرض تخلیق نیک عمل ہے۔ آزمائش اسے معرض وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔ جو ہستی حسن عمل کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو وہی غرض تخلیق میں بھی اعلیٰ ترین مقام کی حامل ہو گی۔ اگر یہ نکتہ آپ کی سمجھ میں آ جائے تو آپ یہ فرمان بآسانی سمجھ لیں گے: لو لاک ما خلقت الأفلاک۔۔۔۔ (بحار ۱۵: ۲۷) یعنی (اے محمد! اے مجسمۂ احسن عمل!) اگر تو نہ ہوتا تو میں اس کائنات کو خلق نہ کرتا۔
(حوالہ: تفسیر کوثر )

الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ﴿۳﴾ اس نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، تو رحمن کی تخلیق میں کوئی بدنظمی نہیں دیکھے گا، ذرا پھر پلٹ کر دیکھو کیا تم کوئی خلل پاتے ہو؟ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ھو حَسِیۡرٌ﴿۴﴾ پھر پلٹ کر دوبارہ دیکھو تمہاری نگاہ ناکام ہو کر تھک کر تمہاری طرف لوٹ آئے گی۔ تفاوت، ایک سلسلے کے حلقات کی ناہمانگی سے عبارت ہے جو  بعض حلقے مفقود ہونے کی وجہ سے معرض وجود میں آتا ہے اور یہ سلسلے کو مقصد تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے  مذکوہ آیت میں خدا نے فرمایا : جنہیں خدا نے خلق کیا ہے  ان میں کوئی تفاوت نہیں  یعنی کوئی بھی چیز  اپنے موطن سے فوت نہیں ہوئی ہے ،کوئی بھی شئی اپنی جگہ سے غائب نہیں ہوئی ہے لہذا اس جہان ہستی کے منظم نظام  میں فقط فرشتوں کی زبان پر  یہ جاری نہیں ہوتا : مامنا الا ولہ مقام معلوم بلکہ یہ ایک عمومی بیان ہے ہرموجود اپنی زبان پر  اس ترنم  کا  اظہار کرتا ہے کہ مامنا الا ولہ مقام معلوم ۔۔۔  

بدون تردید کائنات میں نظم حاکم ہے  یہ ایسا مدعا ہے جس میں  جہاں شناسی کی ٖغرض سے  عالم کائنات  میں مکرر رجوع کرنا خدشہ وارد نہیں کرتا  یعنی ہم جتنی بار عالم میں مراجعہ کریں ہرگز اس میں بے نظمی دکھائی نہیں دیتے ۔ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ، کی تعبیر کا معنی یہ نہیں کہ اگر تم اپنی نظر دوسری دفعہ پلٹا کر  دیکھوگے تو  تم خلقت پروردگار میں  کوئی فطور مشاہدہ نہیں کرسکوگے بلکہ یہاں رجوع دوم سے رجوع سے مراد پہلے رجوع کے علاوہ  ہر رجوع ہے  ۔ یہ عبارت ( دوسری  بار)  دیگر موارد میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوئی ہے جیسے جب کہا جاتا  ہے معقول ثانی  ۔ تو یہ معنی اول کے علاوہ معقول ششم  ، پنجم  وغیرہ سب کو شامل  ہے اسی طرح  مادہ ثانی     سے مراد  مادہ اولی کے علاوہ   باقی  مادہ پنجم ، ششم سب مراد ہیں ـ

تبصرہ: نظم کا معنی اور اسے ثابت کرنے  کی بحث،  معرفت شناسی  کے مبحث میں  مطرح نہیں  بلکہ  یہ ہستی شناسی کی بحث میں  وجود ناظم کو  ثابت کرنے کے  لئے (  ان کے ہاں جو مبداء فاعلی کو  ثابت کرنے کے لئے برہان نظم کو کافی  سمجھتے ہیں) یا توحید اور مبداء فاعلی کا علم  ثابت کرنے  کے لئے ( ان کے ہاں جو  برہان نظم  کو صفات الہی ثابت کرنے کے لئے کافی جانتے ہیں نہ ذات  الہی ثابت کرنے کے لئے  ۔) مطرح ہوتی ہے ۔ جس چیز کی طرف یہاں اشارہ ہوا ہے وہ (اصل موضوعی) کے سنخ سے ہے یعنی اس کے اثبات کا ذمہ متعلقہ فن ( علم تجربی ودیگر علوم ) کے دوش پر  ہے یہاں ہم اس سے متعلق اجمالی بحث کرنے پر اکتفا کریں گے ؛ بعض اوقات اشیاء میں اندرونی ساخت کے اعتبار سے  نظم پائی جاتی ہے تو کھبی خارج میں اشیاء ہدف مند ہونے کے لحاظ سے ۔   اندرونی نظم کو عادی، فنی ، سادہ اور پیچیدہ آزمائشوں کے مجموعے سے ثابت کرنا  دشوار نہیں کیونکہ ہر مادی وتجربی موجود، ہماہنگ عناصر واجزاء  کا حامل ہوتا ہے یعنی اس کی ذات میں جزء اصلی وعنصر ذاتی کے طور پر ہم کسی ایسی شئی کو نہیں پاسکتے جو  دوسرے اجزاء سے تضاد تعارض یا تزاحم  رکھتی ہو ـ علوم تجربی کی پیشرفت  اشیاء کی اندرونی ساختار کی ہماہنگی کا نتیجہ ہے ۔ نظم  بیرونی یعنی  اس کا خارج میں ہدمند ہونے کو  بھی بدیھی نظری، عرفی عقلی  اور عادی وفنی تحقیقات کے زیر سایہ ثابت کرنا آسان ہے ۔ بنابرایں علوم تجربی یہ فتوا  دیتے ہیں  کہ اشیاء  کے اندر نظم پائی جاتی ہے اسی طرح نظم  بیرونی اشیاء یعنی ان کے ہدف مند ہونے کے حوالے سے بھی علوم تجربی گزارش دیتے ہیں  ۔ 

وہ مطلب جس کی اصل اور اس کا نظم سے مربوط نہ ہونے سے  ہرگز غافل نہیں رہنا چاہیے  یہ ہے کہ مادی موجودات  کے درمیان تزاحم کی نسبت پائی جاتی ہے یعنی وہ ایک دوسرے کے لئے مزاحم  ہوتے  ہیں ـ البتہ ان کے درمیان  تزاحم کا ظاہر ہونا بدیھی ہے اس لئے کہ مادی موجودات حرکت کی حالت میں ہوتے ہیں ، ہر کوئی حرکت سلوکیہ کا حامل ہوتا ہے ـ

قرآن مجید میں نظام خلقت کے وجود  کی تصریح کے علاوہ  نظام ہستی میں امور کی تدبیر کرنے والے فرشتوں کے نام کا ذکر بھی ہوا ہے ـ جن آیات میں فرشتوں کے وجود کا ذکر ہوا ہے ان میں سے سورہ مبارکہ بقرہ  کی آیت نمبر 30۔ 33 ہیں جن میں فرشتوں سے مشاورت اور گفتگو کرنے سے  لیکر انسان کامل کے ذریعے انہیں اسماء کی تعلیم دینے کا مسئلہ تک بیان ہوا ہے ۔ وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴿۳۰﴾ اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ جب کہ ہم تیری ثناء کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: (اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ وَ اَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ(اللہ نے) فرمایا: اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان کے نام بتلا دو، پس جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہوں نیز جس چیز کا تم اظہار کرتے ہو اور جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو، وہ سب جانتا ہوں ـ سورہ مبارکہ انبیاء میں فرشتوں کے بارے میں  یوں بیان ہوا ہے ـ
وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ ) اور وہ کہتے ہیں: اللہ نے بیٹا بنایا ہے، وہ پاک ہے (ایسی باتوں سے) بلکہ یہ تو اللہ کے محترم بندے ہیں۔ اس آیت میں تین اہم نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے :

الف : عبودیت پروردگار کا  تذکرہ کر کے کائنات میں فرشتوں کے استقلال کی نفی ہوئی ہے

ب : دستور الہی  کی آمد سے پہلے فرشتوں  کی سبقت  کی نفی ہوئی ہےـ

ج : خدا کی جانب سے  پہنچے ہوئے دستورات کو جاری کرنے میں تاخیر کرنے کی نفی ہوئی ہے ـ 

 پس ان تین صفات( نفی استقلال ، افراط وتفریط میں سلب معصیت) کو بیان کرنے  سے فرشتوں کی بندگی اور عصمت بھی ثابت ہوجاتی ہے ۔  بنابریں فرشتے ،نظام خلقت کی تدبیر کرنے والے تو ضرور ہیں مگر امور ہستی کی تدبیر کرنے میں وہ مستقل نہیں یعنی ایسا نہیں کہ خدا نے  نظام تدبیر فرشتوں کے حوالہ کرکے خود  کو اس سے مکمل طور پربے دخل کیا ہو بلکہ کسی بھی شان  وحال میں فرشتے تدبیر امور میں مستقل نہیں ، وہ اللہ کے حکم اور اذن سے ہی نظام کی تدبیری کام سرانجام دیتے ہیں،  وہ ہمیشہ خدا کی اطاعت وفرمانبردار ی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ،پس سلسلہ منظوم ومنضود در حقیقت خدا کے ہی قبضہ قدرت میں ہے البتہ  اس نے بعض فرشتوں کو  نظام عالم کی تدبیر کرنے پر مامور کر رکھا ہے اور وہ خدا  کی قدرت اور حکم سے نظام کائنات  کے امور کو چلاتے ہیں ۔ 

مادی اور الہی فکر کے حامل افراد اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات پر نظم حاکم ہے کیونکہ اگر کوئی اس کا انکار کرے تو  نتیجہ یہ نکلے گا کہ کوئی بھی قواعد علمی اور علمی مسائل کو کشف کرنے کی فکر نہیں کرے گا بنابرایں مادی اور الہی فکر  رکھنے والے سبھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات میں محکم نظم   کی حکمرانی ہے ـ البتہ مادی گرا   کہتے ہیں کہ مادہ اور طبیعت نے کائنات میں موجود نظم کو  وجود بخشی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں الہی فکر رکھنے والے اس بات کے معتقد ہیں کہ  عالم ملک وملکوت پر حاکم نظام کو اللہ نے وجود بخشا ہے اور وہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے  ۔ بل یداہ مبسوطتان َ۔   ایک اور آیت میں فرماتا ہے : انی توکلت علی اللہ الخ ۔۔۔۔  اس آیت کے پہلے مقدمے میں فرماتا ہے :کوئی بھی چہار پا نہیں مگر اس کی زمام خدا کے قبضہ قدرت میں ہے  ۔ دوسرے مقدمے میں فرماتا ہے : صراط مستقیم پر خدا کا فعل ہدف کی بنیاد پر  معین ہے  پس ان دو مقدموں  سے مجموعی طور پر ہم یہ  استنباط کرسکتے ہیں  کہ سارے متحرک منظم طریقے سے ہدف معین کے مطابق صراط مستقیم پر حرکت کرتے ہیں ۔

 اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ کفار ومنافقین تو صراط مستقیم  پر گامزن نہیں بلکہ وہ تو اس آیت کا مصداق ہیں۔ ان ھم الا کالانعام  الخ ۔۔۔  بنابرایں کفار ومنافقین تو اس آیت کے مطابق  چارپایوں بلکہ ان سے بھی ذیادہ گمراہ ہیں  تو ہم  یہ کیسے کہسکتے ہیں سارے متحرک صراط مستقیم پر حرکت کرتے ہیں ؟  جواب یہ ہے کہ کفار ومنافقین  کی گمراہی انسان کے مخصوص کمال سے موازنہ کرنے کی صورت میں  قطعی ہے نہ ہدف حیوانی  وکمال حیوانی  کی نسبت ۔  وگرنہ لازم آتا ہے کہ  نظام  تکوین میں کوئی بھی موجود گمراہ نہیں ۔کیونکہ ہر حیوان اور درندہ اپنے منظم راستے کو طے کرتے ہیں اگرچہ سچے انسانوں سے موازنہ کریں تو وہ گمراہ ہیں لیکن فصل اخیر اور  صورت نوعیہ کے اعتبار سے وہ مستقیم ہیں وہ کسی قسم کی کجی کا شکار نہیں ـ

*............جاری ............*

+ نوشته شده در 2020/5/7 ساعت 0:10 توسط حسن جمالی  | 

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 144 تاريخ: سه شنبه 25 شهريور 1399 ساعت: 13:12

صفحه بندی