کشمیر.... بات صرف احساس کی ہے

خرید بک لینک

کشمیر ۔۔۔۔ بات صرف احساس کی ہے 

تحریر : محمد حسن جمالی

کشمیر وہ مظلوم خطہ ہے جس کے در ودیوار مسلمانوں  کے خون سے رنگین ہیں  ، ہندوستان کے حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم  میں کمی بیشی ہوتی رہی ،مودی نے بر سر اقتدار آتے ہی مسلم دشمنی پر مبنی   جارحانہ اقدامات کا  کھلا اعلان کیا تب سے لیکر آج تک شاید چشم فلک نے کوئی دن ایسا  نہیں دیکھا جس میں متعصب  مودی سرکار کے اہلکاروں کے ہاتھوں کسی کشمیری جوان کا خون نابحق زمین پر نہ بہا ہو ، بانی پاکستان نے تو کشمیر کو پاکستان کا شہ رگ قرار دیا تھا مگر ان کے بعد کے حکمرانوں نے  اسے وہ اہمیت نہ دی جس کی ضرورت تھی پاکستان کے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے زبانی دعوے سے ہٹکر عملی اقدامات کرنے سے عاجز رہے جس کے عوامل واسباب بہت زیادہ ہیں سرفہرست ان کے مفادات کو لاحق ہونے والے خطرات تھے ،ظاہر ہے قائد کے بعد سے لیکر آج تک باری باری برسراقتدار آنے والے  پاکستان  کےسارے حکمران  مفاد پرست نکلے ،انہوں  نے ہزاروں جتن کرکے اقتدار سنبھالا اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر  اپنی دنیا چمکائی، اپنے اور اپنے خاندانوں کو مالی طور پر مضبوط  کیا، انہوں نے نہ قائد کے حکیمانہ فرمودات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور نہ ہی مفکر پاکستان کے ذرین خیالات سے رہنما ئی لینے کی  زحمت کی ، وہ اپنے مفادات کے حصول کی غرض سے اقتدار سے چمٹے تھے چنانچہ اپنا مقصد پورا کرنے میں وہ کامیاب ضرور رہے مگر  پاکستانی قوم کا بیڑا غرق کیا،حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی،  قوم اور ملک کے مفاد پر مبنی  پالیسیز وضع کرنے سے ان کی عاجزی کے سبب    پاکستانی عوام طرح طرح کے مسائل اور مشکلات میں گرفتار ہوئے اور ہیں ،انہوں نے ملک اور قوم کی ترقی وتکاملی کے لئے بانی پاکستان کے پیش کردہ  راہنما اصولوں کو یکسر طور پر نظر انداز  کیا جس کی وجہ سے ترقی کی بجائے پستی اور تنزلی  کی طرف ملک کا پہیہ گومتا رہاـ 

   قائد اعظم رح نے تو مسلمانوں  کو آذادی کی نعمت سے مالا مال  ہوکرامن اور سکون سے جینے کے لئے  پاکستان  معرض وجود میں لایا تھا لیکن ان کے بعد  آنے والوں نے مسلمانوں کو دوبارہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ،انہوں نے مسلمانوں کو مختلف گروہوں  میں تقسیم کرنے میں کردار ادا کیا ،خاص طور پر سرزمین پاکستان میں مقیم مسلمانوں کو لسانی اور مذہبی اختلافات کی دلدل میں  پھنسائے رکھا تاکہ وہ آپس میں الجھتے رہیں در نتیجہ حکمرانوں کے مفادات کے راستے  صاف رہے  ـ 

 جب ہمارے مفاد پرست حکمرانوں نے دیکھا کہ بعض  سنجیدہ لوگ  ہماری سیاست  کے اہداف سے آگاہ ہیں اور یہی افراد ہمارے مفادات کے حصول کی راہ میں کانٹے ثابت ہوسکتے ہیں تو انہوں  نے بعض عقل اور سوچ بوجھ کی صلاحیت سے  عاری افراد کے ذہنوں اور دماغوں پر مذہبی جنونیت  کا بت سوار کیا, چنانچہ ان مفاد پرستی کے اسیروں نے  بعض مذہبی جنونیت کے سمندر میں غرق نادانوں کی زبان سے  مسلمانوں کی تکفیر کے فتوے تک نکلوائے جس سے ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی کی  آگ پھیل گئی ،جس میں بے گناہ افراد جل کر خاکستر ہونے کے علاوہ  بہت ساری قیمتی جانوں  کا ضیاع ہوا ـ

 پاکستان  میں اغیار کے اشارے سے  مذہبی تعصب کی آگ بھڑکانے والے مٹھی بھر افراد نے مسئلہ کشمیر کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،انہوں نے اس خالص انسانی مسئلے کو بھی مذہبی رنگ چڑھاکر  ایک خاص طبقہ فکر  سے مخصوص مسئلہ ظاہر کرنے کی جدوجہد کی ، آپ کو یاد ہوگا کہ ایک زمانے میں پاکستان کے اندر  دہشتگرد ٹولے لشکر طیبہ کے نام سے نمایاں ہوگئے تھے،  پاکستانی عوام اس نام کو  سن کر ہی خوفزدہ ہوجاتے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسی ٹولے کے عروج کے وقت پاکستان کے  بڑے شہروں کی دیواروں پر  کشمیری ظلم وستم کا نشانہ بننے والے بچوں اور ماؤں کی  تصویروں کے ساتھ  لشکر طیبہ  سے تعلق رکھنے والے خونخوار بھیڑیوں کی تصویریں مجاہدین کشمیر کے ٹائٹل کے ساتھ رنگین اشتہارات میں نظر آتے تھے ،ان اشتہارات کو دیکھ  کر سادہ لوح عوام ان نام نہاد مجاہدین کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے،ان کی زبان سے اس گروہ کی شجاعت اور بہادری  کو ظاہر کرنے والے الفاظ ہی سننے کو ملتے رہتے تھے ،وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہوئے تھے کہ ہمارے ایسے نڈر اور بے باک مجاہدین کی موجودگی میں  بھارت  کی کیا مجال ہے وہ ہمارےاور کشمیری بہن بھائیوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھیں ـ اس کا برعکس کچھ محدود لوگ ان اشتہارات کے پس پردہ موجود اغراض ومقاصد سے آگاہ تھے، وہ جانتے تھے کہ ان اشتہارات میں کشمیری مظلوموں کی تصویروں کے ساتھ مخصوص ٹولے اپنے افراد  کی تصویریں لگاکر ایک خالص انسانی مسئلے کو متنازعہ  بنانے میں کوشاں ہیں ،وہ  کشمیری مسلمانوں کے ہمدرد نہیں بلکہ حقیقت میں وہ انہیں کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں ـ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، پاکستانی عوام کے ہاں لشکر طیبہ  دہشتگرد گروہ کا چہرہ شمار ہوتا تھا ،جب جگہ جگہ  پاکستانی عوام  نے کشمیر کے ویران اور خاکستر ہونے والے مقامات سمیت معصوم بچوں کے مرجھائے ہوئے خون آلود چہروں کے ساتھ اس تنظیم کے مشہور افراد کی تصویریں دیکھیں تو   کشمیر کے لئے جو درد ان کے دلوں میں  موجود تھا اس میں شدت کی بجائے کمی آئی ، وہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور اس  کے حل کی ضرورت پر سنجیدہ فکر کرنے کی بجائے اسے معمول کے مسائل  کے دائرے میں رکھ کر دیکھنے لگے ـ غرض یہ ہے کہ آج تک اگر پاکستانی عوام   وخواص کی اکثریت کی اتفاقی رائے سے مسئلہ کشمیر  کے حل کے بارے کوئی مؤثر آواز نہ اٹھ سکی تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ کشمیری مظلوم مسلمانوں  کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد سر جوڑ کر اس کے اصلی محرکات اور وجوہات پر سوچا جائے، انہیں  ان بنیادی سوالات پر غور کرنا پڑے گا کہ وہ اسباب کیا ہوسکتے ہیں جن  کی وجہ سے  بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کا شہ رگ قرار دیا ؟ پاکستان کے عوام اور خواص کی اکثریت مسئلہ کشمیر  سے لاتعلق کیوں ہے؟ کیا کشمیر کی سرزمین  پر  مسلمان مظالم کی چکی میں  پس نہیں رہے ؟ کیا وہ مظلوم نہیں ؟ اگر وہ مظلوم ہیں تو کیا ان کے دفاع  میں آواز بلند کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ؟ کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی حمایت میں مؤثر آواز بلند کرنے کے لئے مفید اور ذیادہ  مؤثر ذرائع کیا ہوسکتے ہیں ؟ مسئلہ کشمیر سے مربوط اس طرح کے ہزاروں سوالات  ایسے ہیں جن پر  مسلمانوں کو  غور کرکے جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور حکمرانوں  کی طفل تسلیوں پر اعتماد کرنے کے بجائے  پاکستانی پڑھے لکھے طبقے کو تمام جوانب سے غور وخوض کرکے مسئلہ کشمیر کا از سرنو جائزہ لینا ناگزیرہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہے  اس کے خالص انسانی مسئلہ ہونے کو عام کیا جائے اور ہر عام وخاص کو اس بات پر باور کروایا جائے کہ کشمیری مسلمانوں کا دفاع ہر مسلمان کی ذمہ داری   ہے ـ کشمیر ی مسلمانوں کے ناگفتہ بہ حالات سب کے سامنے ہیں لیکن مسلمانوں کی اکثریت ان سنگین حالات پر سنجیدگی سے غور نہیں کررہی کیونکہ بات فقط احساس کی ہے ـ

+ نوشته شده در 2020/7/14 ساعت 15:24 توسط حسن جمالی  | 

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 146 تاريخ: سه شنبه 25 شهريور 1399 ساعت: 13:12

صفحه بندی