*کورونا،ایران وسعودی عرب کے اقدامات پر مزمل سہروردی کا تجزیہ یا مغالطہ*
تحریر: محمد حسن جمالی
پوری دنیا کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کے میڈیا پر چین کے بعد ایران میں یہ بیماری پہنچنے کی اطلاع گردش کرتی رہی، اس کے بعد سارے جہاں میں دنیا کے اکثر ممالک اس سے متاثر ہونے کی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں ،جس سے لوگوں کے دل ودماغ پر خوف اور وحشت کی کیفیت طاری ہوئی ۔ چین سمیت مختلف ملکوں میں اس وائرس کے سبب مرنے والوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد سن کر بہت سارے نفسیاتی مریض بن گئے ۔ انہوں نے اس وائرس کے خوف سے اپنے کاروبار اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں کو محدود کیا ۔ اکثر اس وقت اپنے گھروں میں محصور ہیں ۔
حالیہ دنوں میں میڈیا وسوشل میڈیا سمیت پوری دنیا کے لوگوں کی توجہ کورنا نامی وائرس کی طرف مرکوز ہے ،سارے ممالک اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پوری جدوجہد کررہے ہیں ، وہ اس سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری حکمت عملی کے تحت اقدامات کررہے ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر اپنے وطن کے لوگوں کو پابند کررہے ہیں جو قابل تحسین ہے ۔
اس عالمگیر وجان لیوا وبا کے روک تھام کے لئے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے خصوصا تعلیم یافتہ طبقے کی ذمہ داری اس حوالے سے دوسروں سے ذیادہ ہےـ لیکن صد افسوس کے ساتھ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پاکستان کے اخبارات سے منسلک بعض نام نہاد لکھاری اس بیماری کے حوالے سے لوگوں کو شعور دلانے کے بجائے انہیں ہمسایہ ملک اسلامی جمہوریہ ایران سے متنفر کرانے میں کردار ادا کررہے ہیں، جس کی حالیہ مثال 19مارچ 2020 کو نیوز ایکسپرس میں کورونا،ایران اور سعودی عرب کے اقدامات کے عنوان سے شایع ہونے والی مزمل سہروردی کی بے سروپا تحریر ہے ـ اس مضمون میں راقم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایران اور سعودی عرب کے اقدامات کا غیر منطقی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے، در نتیجہ دنیا والوں کے سامنے یہ ثابت کرنے کی جدوجہد کی ہے کہ ایران ایک ناتواں ملک ہے جو مشکلات کے مواقع پر پانی سر سے گزرنے کے بعد ہی ہوش کے ناخن لیتا ہے ،وہ ناگہانی مصائب اور مسائل سے بروقت نمٹنے کی کوئی حکمت عملی نہیں رکھتا ـ اس کے مقابلے میں راقم نے سعودی عرب کو دور اندیش اور بحرانی مسائل سے بروقت حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرنے والا ملک ظاہر کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کی ہیں
اس نے لکھا ہے *( ابھی تک یہی کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے آیا ہے۔کئی زائرین میں کورونا کے* *ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں ملک میں ایک طرف یہ بحث جاری ہے کہ حکومت نے ایران سے بارڈر بند کرنے کے فیصلے میں تاخیر کیوں کی۔ ادھر غور کیا جائے تو یہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے،کیا یہ ایرانی حکام کی غفلت نہیں ہے* *۔ایران میں کورونا کا پھیلاؤ زیادہ ہے ، ایرانی حکام کا فرض تھا کہ وہ اپنی سرحد کے اندر ان زائرین کو قرنطینہ میں رکھتے اور جو زائرین کلیر ہوجاتے ، انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کرتے اور پھر پاکستانی حکام انھیں قرنطینہ میں رکھتے ۔لیکن یہاں بھی لاپروائی ہوئی اور وہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ اس ضمن میں اگر سعودی عرب کی صورتحال دیکھیں تو وہ بہتر نظر آتی ہے۔پاکستان سے ایران کی نسبت سعودی عرب عمرہ کے لیے جانے والے زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن سعودی عرب کے اقدامات کو دیکھا جائے تو وہ بہتر نظر آرہے ہیں۔اس دلیل میں بہت وزن ہے کہ ہم نے کیوں بر وقت ایران سے بارڈر بند نہیں کیا* *۔ اگر ہم چین کے شہر ووہان میں پھنسے بچوں کو واپس اس لیے نہیں لائے کہ ان کے واپس آنے سے ملک میں کورونا پھیلنے کا خطرہ ہے تو ایران سے زائرین کی واپسی کو کیوں بند نہیں کیا گیا۔ پھر جو زائرین واپس آئے بھی ہیں، ان کو ملک بھر میں پھیلنے کی اجازت کیوں دی گئی)* مزمل سہروردی سے گزارش ہے کہ خدا را کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے آپ اس کے متعلق درست معلومات حاصل کریں ـ آپ کب تک جھوٹی باتوں ،پریپیگنڈوں اور الزامی تراشیوں کا سہارا لیکر تجزیہ نگاروں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کرتے رہوگے؟ جناب پاکستان کی فضا میں اگر یہ خبر عام ہوئی ہے کہ ایران کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وائرس پھیلا ہے تو اس کا قصور وار کوئی اور نہیں آپ جیسے نام نہاد لکھاری اور میڈیا پر سرگرم کچھ ضمیر فروشوں کا کارنامہ ہے، وگرنہ ایک دس سالہ نابالغ بچہ سے بھی پوچھا جائے تو وہ بھی کہدے گا کہ یہ ایک عالمی وبا ہے جو چین کے بعد پوری دنیا کے ممالک میں بڑی سرعت سے پھیل چکی ہے ۔ ایران دشمنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے جناب ۔ البتہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا خصوصا اخبارات کے مالکان جن ترجیحی بنیادوں پر افراد کو اپنی طرف جزب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان میں سر فہرست ایران دشمنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ہمیشہ ایران کے مثبت اقدامات اور نمایاں کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، جب ان کے لئے ایران کی خوبیوں کو چھپانا ممکن نہیں ہوتا تو وہ ان میں غلط تاویلات کرکے لوگوں کے سامنے ان کی اہمیت گھٹانے کی گھٹیاپن حرکت کرتے ہیں ۔ مزمل سہرودی صاحب آپ نے اپنی تحریر میں حکومت پاکستان سے ایران کا بارڈر بروقت بند نہ کرنے کے گلے کا اظہار کیا ہے ۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں ذرا انصاف سے بتائیے گا کہ آپ کی عقل کیا کہتی ہے ؟ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کے لئے اس ملک سے ذیادہ خطرہ ہے جس کا بارڈر بقول آپ کے دیر سے صحیح مگر سیل تو کردیا گیا ہے یا وہ ممالک ذیادہ خطرناک ہیں جن کے ہوائی اور زمینی راستے باقاعدہ کھلے رہے ، وہاں بندش کا کوئی انتظام نہیں کیا ۔ اس بیماری سے ایران سے ذیادہ تو چین متاثر ہوا اور اموات کی تعداد بھی ایران کی نسبت چین اور اٹلی میں ذیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں سے مسافر وں کی رفت وبرگشت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہا ۔ کیا ایران سے زائرین پاکستان پہنچنے سے پہلے چین سے ہزاروں پاکستانی اپنے وطن نہیں پہنچے ؟انہیں چینی حکام نے قرنطینہ میں رکھے اور نہ پاکستانی حکام نے ۔ کیا یہ احتمال نہیں کہ پاکستان میں عرب امارات سمیت اٹلی چین یورپ اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے مسافرین کے سبب کرونا پھیل گیا ہے ؟ آپ کس بنیاد پر پورے جہاں کے مسافرین میں فقط ایران سے آئے ہوئے چند زائرین کو ہی پاکستان میں وائرس کے پھیلاو کا سبب قرار درہے ہیں ؟ کیا اسے زائر دشمنی ،ایران سے عداوت پر مبنی پریپیگنڈے کے سوا کسی اور چیز کا نام دیا جاسکتا ہے؟
سہروردی جیسوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین، حکومتی انتظامیہ کی زیر نگرانی قرنطینہ میں ٹیسٹ کے تمام مراحل طے کرتے ہیں ،ان میں کورونا وایرس نہ ہونے کی ڈاکٹروں کی تصدیق کے بعد ہی وہ اپنے گھروں کو جارہے ہیں ، اگر چہ بلوچستان حکومت زائرین کو قرنطینہ میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ، وہاں ان کی حالات ناگفتہ بہ ہیں ، نہ انہیں کھانے پینے کا کوئی اچھا نظام میسر ہے اور نہ اچھی رہائش کا بندوبست ۔ بہت سارے مختلف امراض کا شکار ہیں مگر انہیں دوا علاج ومعالجے کا کوئی انتظام نہیں ۔ ان تمام درپیش مسائل اور مشکلات کے باوجود وہ قرنطینہ میں رہ کر طبی احتیاطی تدابیر اور ڈاکٹروں کی تمام ہدایات پر عمل کرکے مکمل صحت مندی کی سند لے کر ہی اپنے گاؤں اور گھروں کو جارہے ہیں مگر موصوف نےبڑی سادگی سے یہ غیر ذمہ دارانہ جملے لکھ ڈالے (جو زائرین واپس آئے بھی ہیں، ان کو ملک بھر میں پھیلنے کی اجازت کیوں دی گئی ! ) اس حوالے سے ہم مزمل سہروردی سے اتنا عرض کریں گے کہ آپ اپنی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حتی ایک زائر بھی قرنطینہ میں رہے بغیر کہیں نہیں گیا ہے ۔
راقم نے سعودی عرب کی بڑی تمجید کی ہے کہ اس نے بروقت پاکستان سے عمرہ کے لئے جانے والے زائرین کو روکا، ان پر سفر کی پابندی لگادی ؟ سہروردی صاحب یہ سعودی کا کوئی ہنر نہیں وائرس کے پھیلاؤ کی خبر منتشر ہونے کے بعد تو بہت سارے ممالک نے آنے والے مسافریں پر پابندی لگا دی ہے جس میں سرفہرست ایران کا نام آتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس بیماری کا شور اٹھنے سے پہلے جو سعودی عرب گئے ہوئے تھے ان کے بارے میں سعودی عرب نے کیا اقدامات کئے ہیں ؟ آپ اگر ایران اور سعودی عرب کا موازنہ کرتے ہیں تو اس پہلو سے موازنہ کرنا چاہئے ۔ اس لئے کہ علمی دنیا میں جب دو چیزوں کا تقابلی جائزہ لیتا ہے تو اس میں جہات یکسان ہونا ضروری ہے ـ مختلف پہلووں سے دو چیزوں کا موازنہ کرنا مغالطہ تو ہوسکتا ہے مگر موازنہ نہیں ۔ اس کے علاوہ اسرائیل وامریکہ کی غلامی سمیت مسئلہ فلسطین سے بے رخی اور یمن کے مسلمانوں پر شب خون مارنے کے حوالے سے بھی ذرا سعودی عرب اور ایران کا موازنہ پیش کیجئے گا ۔
راقم نے اپنی تحریر کے درمیانی سطروں میں لکھا ہے ( *ایران میں صورتحال مخدوش ہے۔ وہاں وبا پھیل چکی ہے۔ شاید ایرانی حکام خطرے کا صحیح اندازہ نہیں کر سکے ہیں۔ ایران میں ایک بحران آچکا ہے۔ ایران میں کورونا سے نبٹنے کی کوشش کے حوالے سے بھی اعلیٰ سطح پر اختلاف کی افواہیں چل رہی ہیں۔ ایک گروپ کی تجویز ہے کہ تہران سمیت تمام شہر بند کر دیے جائیں۔ دوسرا گروپ شہر بند کیے بغیر کورونا کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کا حامی ہے* *۔ان کی دلیل ہے کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ ملک بند کر کے معیشت چلا سکے۔ ایران نے زائرین کی آمد بھی بند نہیں کی۔ جس کی وجہ سے وہاں صورتحال نہ صرف خراب ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد ممالک مشکل میں آگئے ہیں۔)* سہروردی صاحب ماہرین طب نے تو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے لوگوں کو ناک منہ ماسک کے ذریعے ڈھانپنے کی تاکید کی تھی لیکن آپ نے تو عقل پر بھی تعصب کا ماسک چڑھایا ہے ـ ٹھیک ہے یہ وبا ایران میں پھیل چکی ہے اور اس سے اموات بھی ہوئی ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ ایرانی حکام اس کے سامنے بے بس ہوں ! وہ تو شب وروز اس کے روک تھام کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، تمام طبی ماہرین سر جوڑ کر اس پر قابو پانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنانے پر غور کررہے ہیں ، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد اپنی قوم کو اس بیماری کے بارے میں شعور وآگاہی دینے میں کوشاں ہیں ۔ کتنا خندہ دار ہے آپ کی سفید جھوٹ پر مبنی یہ باتیں کہ *ایران میں کورونا سے نبٹنے کی کوشش کے حوالے سے بھی اعلیٰ سطح پر اختلاف کی افواہیں چل رہی ہیں۔ایک گروپ کی تجویز ہے کہ تہران سمیت تمام شہر بند کر دیے جائیں۔ دوسرا گروپ شہر بند کیے بغیر کورونا کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کا حامی ہے ۔ان کی دلیل ہے کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ ملک بند کر کے معیشت چلا سکے۔ ایران نے زائرین کی آمد بھی بند نہیں کی۔ جس کی وجہ سے وہاں صورتحال نہ صرف خراب ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد ممالک مشکل میں آگئے ہیں)* سہروردی صاحب ان جھوٹی من گھڑت باتوں سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے ؟ آپ کو پتہ ہے کس ملک کے بارے میں آپ نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی ہے ؟ ایران کرہ ارض کا وہ ملک ہے جہاں کے عوام نظام ولایت فقیہ کے زیر سایہ عزت کی زندگی گزار رہے ہیں ، ان کے آپس میں لاکھ اختلاف ہوں مگر قومی اور ملکی حساس مسائل میں وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر پرچم ولایت کے زیر ساتھ متحد ہوتے ہیں اور اپنے رہبر اعلی کی ہدایات پر دل جان سے عمل کرتے ہیں ـ حالیہ کرونا وائرس جیسی جان لیوا بیماری سے نمٹنے کے لئے ایران کے اعلی حکام سمیت پوری قوم متحد ہوکر ماہرین طب کی ہدایات پر عمل پیرا ہے ـ احتیاطی تدابیر کے پیش نظر تمام اسکولز مدارس اور یونیورسٹیاں بند ہیں لیکن کلاسیں آنلائن جاری ہیں ، اس کے علاوہ اہم اجتماعی فعالیتیں محدود ضرور ہوگئیں ہیں لیکن بند نہیں ۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ ایران نے زائرین کی آمد بند نہیں کی بلکہ اس بیماری کا شور اٹھتے ہی ایران نے تمام کورونا سے متاثر ہونے والے ممالک سے زائرین کی آمد پر پابندی لگادی ہے ۔ ہاں جو اس وبا کی آمد سے پہلے ایران پہنچے ہوئے تھے ان کو پوری عزت واحترام سے اپنے ملکوں میں جانے کی اجازت دے رہا ہے ۔ لہذا راقم کی یہ باتیں سفید جھوٹ کا مصداق ہیں ۔ کورنا کے روک تھام کے حوالے سے ایران وسعودی عرب کے اقدامات کے سلسلے میں سہروردی صاحب نے موازنہ نہیں مغالطہ کاری کرکے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے!
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 143 تاريخ: چهارشنبه 27 فروردين 1399 ساعت: 13:02