آرامکو تیل کی تنصیبات پر حملہ اور سعودی عرب کی بے چینی
تحریر : محمد حسن جمالی
متون دینی میں جابجا اس حقیقت کا تذکرہ ملتا ہے کہ ظلم کا نتیجہ بےچینی ، تاریکی اور نابودی ہے ـ ظالم کوئی بھی ہو اس کا انجام دردناک ہوتا ہے، کوئی بھی قوم یا فرد اختیار کی نعمت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرے، ظالم بن کر جینا پسند کرے، انسان بننے کے بجائے درندہ بن کر زندگی بسر کرنا چاہئے تو نتیجہ سرنگونی کے سوا کچھ نہیں ـ یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ کامیابی اور فتح مظلوم کا مقدر بن کر رہ جاتی ہے ،جس کی بنیادی وجہ مظلوم کو خدا کی جانب سے امداد غیبی کا شامل حال ہونا ہے، رب کائنات کا یہ پکا وعدہ ہے" ان تنصرکم اللہ ینصرکم" اگر تم اللہ کی نصرت کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا،
مگر افسوس! سعودی حکمرانوں نے اس آیت کو ٹھکرایا، اس پر ایمان نہیں لایا، اس کی کھل کر مخالفت کی ، وہ نصرت پروردگار کے بجائے شیطان بزرگ کی مدد کرنے پر راضی ہوئے، انہوں نے اسلام کی زرین تعلیمات پر عمل کرکے حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت کرنے کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کا سرسخت دشمن اسرائیل کا بغل بچہ بن کر مسلمانوں کی رسوائی کا باعث بننے کو پسند کیا، دنیا کی چند روزہ زندگی کو ظالم بن کر گزارنے کا ارادہ کیا ،عزت کی زندگی پر ذلت آمیز زندگی آذادانہ زندگی پر غلامانہ زندگی کو ترجیح دی ـ گرچہ انہوں نے سلفی اور تکفیری بے بنیاد اعتقادات کی بنیاد پر مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والوں کو مشرک قرار دینے والے ٹولے کو بھرپور سپورٹ کیا، مگر عملا نصوص قرآنی کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے خدا سے ذیادہ امریکہ اور اسرائیل طاقتور ہونے پر باور کرکے وہ شرک جلی کے مرتکب ہوئے ـ کیا یہ صریح تضاد نہیں کہ ایک طرف سے وہ کہتے ہیں خدا کے علاوہ کسی سے مدد مانگنا کفر ہے تو دوسری جانب سے امریکہ واسرائیل کی نصرت پر مکمل یقین کرکے اقدار اسلامی کو پائمال کرنے میں کوئی کسر چھوڑنے کا نام نہیں لے رہے ہیں؟ کیا یہ کھلی منافقت نہیں کہ ایک طرف سے آل سعود حرمین شریفین کے خادم ہونے کے دعویدار ہیں اور دوسری طرف سے یمن کے مسلمانوں پر شب خون مار رہے ہیں؟ کیا یہ اسلام کے ساتھ آشکارا مذاق نہیں کہ ایک طرف سے وہ سعودی عرب اسلامی ومذہبی مرکز ہونے کا اعلان کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف سے اسی نام نہاد اسلامی مرکز سے مسلمانوں کے کفر کے فتوے مسلسل پرچار ہورہے ہیں ؟ کیا یہ حکم اسلام سے کھیلنا نہیں کہ جب بھی سعودی عرب کو اپنے غلط کرتوت کی سزا اسی دنیا میں ملنے لگتی ہے تو پاکستان کے سعودی نواز مولوی ڈاڑیں مار مار کر روتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں کو تحفظ حرمین شریفیں کا شعار بلند کرتے ہوئے مدد کے لئے پکاریں مگر کشمیر کے حالیہ ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں سعودی حکمران یہ کہکر زبانی مذمت تک کرنے کو مناسب نہ سمجھیں کہ کشمیر کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں؟
کشمیر میں ہونے والی جارحیت وحشیت اور بر بریت سے مکمل طور پر لاتعلقی کا مظاہرہ کرکے سعودی عرب کے حکمران سمیت مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے پیٹ بھری کا انتظام کر نے والوں نے دنیا کے سامنے ایک بار پھر یہ آشکار کردیا کہ سعودی عرب کی داخلی اور خارجی پالیسیز کا محور مادی مفادات ہوتے ہیں جس تک رسائی کے لئے وہ اسلام کو بطور آلہ استعمال کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ جب جارح مودی نے اپنی ناپاک فوج کے ذریعے کشمیر پر جنگ مسلط کروائی، کشمیری مسلمان جل کر خاکستر بن گئے، کشمیریوں کے لئے زندگی عذاب بن گئی، ان کے گھر اجڑ گئے، ان کی معمولات اور معاملات زندگی درھم برھم ہوگئے ، وادی کشمیر وہاں کے باشندوں کے لئے ذندان میں تبدیل ہوگئی اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے بجائے نسل یہود کے حکمران خاموش تماشائی بن بیٹھے جس کا واحد ہدف مودی غدار کی دوستی کو تحفظ فراہم کرنا تھا، شیطان مثلٹ یعنی امریکہ اسرائیل اور ہندوستان کے حکمرانوں کی خشنودی حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ! گویا اس نے یوں کہا ہے کہ کشمیر جلے ، وہاں کے مسلمان بچے مرد عورتیں مریں، ان کی عزتیں لٹیں تو ہمیں کیا وہ خود جانیں یا ہندوستانی سرکار، ہم کشمیری مسلمانوں کی حمایت کرکے اپنے آقاؤں کو ناراض نہیں کرسکتے ،بلکہ اگر وہ ہمیں برعلیہ مسلمان لڑنے کا اشارہ دیں تو ہم پوری رغبت سے اس کام کے لئے تیار رہتے ہیں ، جس کی واضح مثال جنگ یمن ہے، جس میں لاتعداد بے گناہ مسلمانوں کو سعودی عرب نے خون ناحق کے سمندر میں ڈبو دیا ، مگر ہمارا سلام ہو یمنی غیور فوج اور مسلمانوں پر جنہوں نے ایمانی طاقت سے لیس ہوکر ظالم سعودی فوج کی گولیوں کا مقابلہ پھتر اور کنکریوں سے کرتے رہے ، سعودی جارحیت سے ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے ،جنازے اٹھا اور دفنا کر تھکن کا احساس نہیں کیا ،بلکہ وہ میدان میں ڈٹ کر فداکاری کا مظاہرہ کرتے رہے، مقاومت کرتے رہے ،اپنے دفاعی وسائل بڑھاتے رہے ،یوں پانچ سال کے عرصے میں سعودی بربریت نے یمنی مسلمانوں کو جنگی میدان میں بہت طاقتور بنادیا ،وہ اس مختصر عرصے میں اس قدر قوی ہوئے کہ اب وہ سعودی عرب سمیت سرکش گوڑوں کو لگام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، وہ سعودی عرب کے مظالم کا بھرپور جواب دینے کی منزل پر پہنچ چکے ہیں جس کا نمونہ سعودی عرب کے اہم مقامات پر وقتا فوقتا یمنی فوج کی طرف سے کئے جانے والے ڈرون کامیاب حملے ہیں، خاص طور پر چند روز قبل آرامکو کی دو اھم ریفائنریز پر یمنی مجاہدوں کی طرف سے کئے گئے کامیاب حملے نے سعودی عرب کو سخت اضطراب اور بے چینی میں مبتلاکردیا ہے ،کیونکہ یہ حملہ سعودی مفادات کے مرکز پر ہوا جس سے سعودیہ کی تیل سپلائی کا سلسلہ شدید متاثر ہوا، بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس حملے کے بعد سعودی تیل کی سپلائی نصف رہ گئی ہے، تیل کی تنصیبات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے ، حملے سے پہلے والی آئل پروڈکشن تک پہنچنے کے لئے کئی ھفتے لگ سکتے ہیں۔دنیا میں تیل کی قیمتوں میں %15 سے %20 تک اضافہ ہوا ہےـ
لیکن دروغگو پہ لعنت امریکہ سمیت سعودی عرب کے حکمرانوں کو غلام بنانے والی طاقتوں نے سعودی عرب کی شکست اور زوال کے تسلسل پر پردہ ڈالنے نیز یمنی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو چھپانے کے لئے کہا کہ اس حملے کا ذمہ دار ایران ہے !یہ ایران کا ہی کیا دھرا ہے، یمنی فوج میں اتنی طاقت کہاں ہے؟ ان کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آگئے ؟جب کہ یمنی مسلمانوں نے پوری شجاعت سے افتخار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس حملے کا ذمہ دار ہم ہیں ،سعودیہ تیل تنصیبات کو نشانہ ہم نے بنایا ہے، یہ ہماری طاقت کی ایک جھلک ہے ،ہم اب آئندہ وسیع پیمانے پر سعودی عرب کے اہم مقامات پر حملے کرتے رہیں گے ، مگر یہاں بھی سعودی عرب اپنے آقاؤں کی رضایت کی خاطر بغیر شرم وحیا کے اس حملے کا الزام ایران کے سر تھونپ کر شور اور واویلا کررہا ہے اور جب دیکھا کہ اس بات میں اتنا وزن نہیں تو کہا ایران کا اسلحہ اس میں استعمال ہوا وغیرہ .. بلا شبہ یہ ساری باتیں الغیبة جھد العاجز کا مصداق ہی ہیں ـ
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیطانی طاقتیں سعودی عرب سے یہ کہلوانے پر مصر کیوں ہیں کہ حملہ ایران نے کیا ہے؟ جواب روز روشن کی طرح واضح ہے ،اس وقت پوری دنیا میں کوئی ملک سپر طاقتوں کے دعویداروں کی آ نکھوں میں کا نٹا بن کر چب رہا ہے تو وہ ایران ہے، یہ وہ واحد ملک ہے جس کا مطمع نظر اسلام اور مسلمانوں کی جان مال اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے، ایران قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ ہرجگہ مظلوم کا دفاع کرتا ہے اور ظالم کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے ،فلسطین ہو یا کشمیر ایران نے کھل کر مظلومین کا ساتھ دیا، ان کی بھر پور حمایت کی اور ظالموں کی مذمت کرنے کے ساتھ ان کو ظلم وستم کے برے انجام کا آئنہ بھی دکھایا ،ایرانی سپریم لیڈر نے مختلف مواقع پر کئے گئے اپنے خطاب میں سعودی عرب کو بیدار ہونے ،بصیرت سے کام لینے ،اسلام کے دشمنوں پر اعتماد نہ کرنے اور ہوش کے ناخن لینے کی نصیحت کی گئی ، سعودی حکمرانوں کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ شیطان بزرگ امریکہ تمہیں صدام اور رضا شاک پہلوی کی طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے اور ان کا جوانجام ہوا ساری دنیا جانتی ہے تمہارا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا .... اس سے اتمام حجت تو ضرور ہوا، مگر آل سعود پر ان نصیحتوں کا چندان اثر نہ ہوا کیوں؟ کیونکہ ان کے شکم لقمہ حرام سے بھرے ہوئے ہیں ، تاریخ کربلا کے سینے میں آج بھی یہ بات محفوظ ہے کہ کچھ پھتر دل رکھنے والے لوگوں پر سید الشھداء حضرت امام حسین ع کی نصیحتوں کا اثر نہیں ہوا کیونکہ ان کےشکم لقمہ حرام سے بھرے ہوے تھے ـ
دنیا کے مسلمانوں کو آنکھ کھول کر تعصب کی عینک اتار کر سعودی عرب کے حکمرانوں اور مذہبی مولویوں کے حرکات وسکنات کا جائزہ لینا چاہئے ، سعودی عرب میں روزبروز گرتی ہوئی اسلامی اقدار کے بارے میں فکرمند ہونا چاہئے، مسئلہ کشمیر سے سعودی عرب کی لاتعلقی کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اس ملک کے نام نہاد مفتیوں کے فتووں کو نصوص قرآن واحادیث پر تطبیق کرکے دیکھنا اور پرکھنا چاہئے کیونکہ وہاں ہر مذہبی وغیر مذہبی امور آل سعود کی ہی زیر نگرانی انجام پزیر ہوتے ہیں جن کا قرآنی نصوص سے کھلا مذاق اب پوشیدہ نہیں رہا
اگر آج سعودی عرب کی ساکھ گرتی جارہی ہے تو علت قرآن سے دوری ہی ہے بقول علامہ اقبال
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تاریک قرآن ہوکر
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 169 تاريخ: پنجشنبه 15 اسفند 1398 ساعت: 4:20