جامعہ روحانیت بلتستان کے مسؤولین کا توجہ طلب شعبہ

خرید بک لینک
*جامعہ روحانیت بلتستان کے مسؤولین کا توجہ طلب شعبہ!*

تحریر: محمد حسن جمالی

معاشرتی سرگرمیاں انفرادی کاموں پر فوقیت رکھتی ہیں ـ اجتماعی امور کو کامیابی سے سرانجام دینے کے لئے اجتماعی طاقت درکار ہوتی ہے، انسان کی زندگی میں معاشرت ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے، اس کے بغیر نہ اس کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اور نہ ہی اسے سکون سے لبریز زندگی میسر ہوسکتی ہے، اسی حقیقت کے پیش نظر قم المقدسہ میں موجود بلتستان کے بعض طلباء اور علماء کرام نے جامعہ روحانیت بلتستان کی شکل میں ایک اجتماعی پلیٹ فارم کو معرض وجود میں لایا گیا، جس نے بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کو متحد کیا، اتفاق سے منظم انداز میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا، اجتماعی شعور کو گہرا کرنے میں کردار ادا کیا ـ

جامعہ روحانیت بلتستان کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں طلباء نے بہت نیک کام کئے ـ فرہنگی امور میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور مختصر مدت میں جامعہ روحانیت بلتستان کی فعالیت میں اچھی پیشرفت دیکھنے کو مل رہی ہے ـ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پلیٹ فارم پر جو اساسی کام ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہورہا ہے ـ شعبہ تحقیق آج بھی جامعہ روحانیت بلتستان کے مسؤولین کی توجہ کا طالب ہے ـ

ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بلتستان کے دوردراز علاقوں سے ہجرت کرکے حوزے میں آئے ہوئے ہیں ـ ہمارا اصلی ہدف علمی ترقی ہے، باقی ساری چیزیں اور فعالیتیں فرع کی حیثیت رکھتی ہیں ـ آج حوزہ علمیہ کے اندر ہم سابقہ علماء کے علمی اور تحقیقی رزق سے مستفید ہونے پر اکتفاء کررہے ہیں جب کہ یہ لازم ضرور ہے مگر کافی نہیں ـ

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علمی اور تحقیقی میدان میں ہم ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے، جب اللہ تعالی نے جامعہ روحانیت کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے تو اس کے مسؤولین کی پوری توجہ اس بنیادی ہدف پر مرکوز ہونی چاہئے تھی ، انہیں بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کو تحقیقی میدان میں آگے لانے کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے تھی اور بلتستان کے علماء اور طلباء کے علمی آثار کو جمع کرکے انہیں چھپوا کرمنظر عام پر لانے کا بھر پور اہتمام کرنا چاہئے تھا مگر .... یاد رہے کہ علمی شخصیات کی پہچان ان کے آثار اور علمی کاوشیں ہیں نہ کوئی اور چیز ـ

شعبہ تحقیق کو پوری توجہ سے فعال رکھنے کے بہت سارے فوائد حاصل ہوں گے ـ پہلا فائدہ یہ ہے کہ حوزہ علمیہ میں زیر تعلیم بلتستان کے بااستعداد طلباء کی شناخت ہوتی ہے ـ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ان کے آثار محفوظ ہوکر موجودہ اور آئندہ نسلیں ان سے مستفید ہوسکتی ہیں ـ تیسرا فائدہ طلباء کا تحقیقی اور علمی امور کی جانب رجحان بڑھ جاتا ہے ـ چھوتھا فائدہ یہ ہے کہ اگر منطقی طریقے سے علمی اور تحقیقی شعبے کو فعال کیا جائے تو خود جامعہ روحانیت کے لئے مادی ومعنودی بڑا سرمایہ جمع ہوسکتا ہےـ مگر فی الحال یہ خلا اپنی جگہ موجود ہے ـ

امید ہے جامعہ روحانیت کے مسؤولین اس پر توجہ کرکے غور کریں گے ـ ہمیں اس نکتے سے غافل نہیں رہنا چاہئے کہ علماء کی ذمہ داری سنگین ہے ـ آج پورے پاکستان میں بالخصوص بلتستان میں ہمارے دشمن پوری منصوبہ بندی کے تحت ملت تشیع کے خلاف نت نئی سازشیں اور پریپیگنڈے کر رہے ہیں جن کا مقابلہ کرنا علمی ٹھوس قابلیت کے بغیر ممکن نہیں ـ اس وقت ہمیں مدرسہ ،ممبر اور محراب کے حدود میں مقید رہنے کے بجائے وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ـ حوزے سے اعلے پائے کے مدرس، خطیب مصنف، مؤلف اور مترجم بن کر نکلنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم صحیح معنوں میں حریم اسلام اور حریم اہلبیت کا دفاع کرسکیں ـ

اس حقیقت کو بھی ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ علمی اور فرہنگی میدان میں وہ افراد جلدی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں جو اجتماعی طاقت سے لیس ہوکر ان میدانوں میں فعال ہوجاتے ہیں ـ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اگر کوئی شخص علمی میدان میں ذاتی طور پر محنت اور زحمت کرے تو اسے اس کا پھل نہیں ملے گا، بلکہ مقصود یہ ہے کہ گزشتہ اور موجودہ علمی شخصیات کے تجربات سے یہ حقیقت آشکار ہے کہ ٹیم کی شکل میں اگر علمی کام ہوجائے تو وہ محکم ہونے کے ساتھ بہت جلد مثمر ثمر ہوجاتا ہے ـ شعبہ تحقیق جامعہ روحانیت بلتستان کی توجہ کا طلبگار ہے ـ

بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...

ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 188 تاريخ: پنجشنبه 19 ارديبهشت 1398 ساعت: 4:32

صفحه بندی