یکم مئی ....... روز
معلم تحریر: محمد حسن جمالی
دو دوست تهے ایک کانام دلاور تها اور دوسرے کا نام یاور، وہ ہمیشہ ساتهہ رہتے تهے ،دونوں ایک ہی محلے کے تهے ، دلاور یاور سے دو سال بڑا تها ، دلاور پانچویں جماعت میں پڑهتا تها جبکہ یاور تیسری جماعت کا طالب علم تها ـ دلاور بڑے شوق سے پڑهتا تها، وہ تعلیم کی اہمیت سے واقف تها اور اپنے اسکول میں وہ دوسروں کے لئے نمونہ تها - اسکول کے اساتذہ اس سے خوش تهے ، وہ اس پر پوری توجہ دیتے تھے، بڑے پیار سے اسے پڑهاتے تهے ، اس کی صلاحیت کے معترف تھے اور ہر وقت اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے ـ اس کے مقابلے میں دلاور بهی اپنے اساتذہ کا بےحد احترام کرتا تھا، ان کی نصیحتوں پر عمل کرتا تھاـ مگر اس کا پیارا دوست یاور تعلیم کی اہمیت سے بیگانہ تها، وہ تعلیم میں دلچسپی کم لیتا تها ـ دلاور نے کئی بار اپنے دوست کو سمجهایا ،تعلیم کی اہمیت بتائی ،اس کو اپنی طرح کا محنتی طالب علم بنانے کی کوشش کی ،اسے مسلسل سمجهاتا رہا , لیکن نتیجہ صفر نکلا، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس کی سعی لاحاصل ہوئی ـ دلاور کو بڑا دکهہ ہوا - وہ دونوں روزانہ ساتهہ اسکول جایا کرتے تهے چنانچہ کافی سوچ وبچار کے بعد دلاور نے اپنے دوست یاور کی تعلیم سے عدم دلچسپی کی وجہ جاننے کا سوچا، وہ مناسب موقع کا منتظر تها، وقت گزرتا گیا , لیکن یاور کو کوئی مناسب موقع نہیں ملا -
ایک دن دلاور کے استاد نے کلاس میں لیکچر دینے کے بعد طلبآء سے مخاطب ہوکر کہا ," بچو" کیا تم جانتے ہو کل کا دن کونسا دن ہے؟ سب نے نفی میں سر ہلایاـ استاد دوبارہ گویا ہوئے, اور کہا " عزیز بچو" کل کا دن بڑی اہمیت کا حامل دن ہے ، کل یکم مئی ہےـ اس دن کو اگرچہ پاکستان میں لوگ یوم مزدور کے نام سے یاد کرتے ہیں , لیکن ہمارے پڑهوس ملک ایران میں یکم مئی کو یوم معلم منایا جاتا ہے- بچوں نے سوال کیا " سر" اس دن کو ایران میں روز معلم کس مناسبت سے منایا جاتا ہے؟
استاد نے کہا "پیارے بچو"یکم مئی کو ایران کی عظیم شخصیت , خطیب بے بدیل - مائہ ناز مفکر , عظیم فلاسفر،معلم بزرگ آیت اللہ ڈاکٹر مرتضی مطہری کو اسلام کے دشمنوں نے درجہ شہادت پر پہنچا دیا ہے ،اسی مناسبت سے ایران میں یکم مئی کو روز معلم منایا جاتا ہے ـ عزیز بچو" شھید مرتضی مطہری نے اپنے گهر سے ہی حصول تعلیم کی ابتداء کی ، 12 سال کی عمر میں حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں قدم رکها ،کچهہ مدت کے بعد عازم حوزہ علمیہ قم ہوئے ، وہاں تحصیل کرتے رہے اور پورے 25سال قم میں رہ کر انہوں نے علمی شخصیات سے بهر پور استفادہ کیاـ آپ کے اساتذہ میں سر فہرست امام خمینی , آیت اللہ بروجردی اور علامہ طباطبائی کا نام آتا ہے - شهید مرتضی مطہری ظاہری طور پر ایک انسان تهے , لیکن درحقیقت وہ ایک پوری ملت تهے ،جن کی علمی تقریروں اور لیکچرز نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا ہے ـ, استاد اپنی گفتکو ختم کرکے جانے والے ہی تهے, دلاور فورا" اپنی جگہ سے اٹها اور استاد کی طرف بڑهہ کر تقاضا کیا ," استاد محترم" میں ان کی حالات زندگی پوری تفصیل سے جاننے کا متمنی ہوں آپ میری رہنمائی فرمائیے - استاد بہت خوش ہوئے , اور اس کو آیت اللہ مرتضی مطہری کی زندگی کے بارے میں لکهے گئے کچهہ مقالے پکڑا دئیے , اس کے ساتھ جہان بینی کے بارے میں استاد مطہری کی لکھی ہوئی شہرہ آفاق کتاب دیتے ہوئے کہا بیٹے "آپ ان کا دقت سے مطالعہ کیجئے گا , آپ جیسوں کے لئے ان کی زندگی نمونہ ہے اور یہ بات بھی زھن میں رکھے گا کہ انہیں پڑهنے کے بعد آپ ضرور اپنے اندر تبدیلی محسوس کرے گا - دلاور نے استاد کا تہدل سے شکریہ ادا کیا اور استاد سے مقالے لیکر لائبریری میں چلا گیا، اسے اپنی جگہ بے انتہا خوشی ہورہی تهی -
کتابخانے میں داخل ہوتے ہی آذان کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی ، وہ صوم وصلوة کا پابند تھا ،چنانچہ وضو کرکے وہ فریضہ نماز ادا کرنے کے لئےلائبریری کے پاس مسجد میں پہنچ گیا اور ایک نورانی شیخ کی اقتداء میں نماز ظہر باجماعت پڑهی، اسے آخری صف سے پہلے والی صف میں جگہ ملی تهی ،تعقیبات کے بعد وہ عصر کی نماز فرادا پڑھنے کی غرض سے اٹها ہی تها ،اچانک دیکها کہ امام جماعت ممبر پر ہے،اس نے سوچا مولانا صاحب شاید کوئی شرعی مسئلہ سناتے ہوں گے ،کیونکہ نماز ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے سے استفادہ کرتے ہوئے مساجد میں اکثر امام جماعت کا کسی شرعی مبتلابہ مسئلے کی وضاحت کرنا معمول تھا " مگر توقع کے برخلاف امام جماعت نےخطبہ شروع کیا ـ
وہ کہتا ہے میں سوچ میں پڑهہ گیا کہ جلدی نماز فرادا پڑهہ کے نکل جاوں , یا انتظار کروں اورامام جماعت کی گفتگو سے پہلے استفادہ کرلوں , اندر سے میرے ضمیر نے جھنجوڑ کر کہا" تجھے بیٹھ کر اس عالم کی گفتگو سے استفادہ کرنا چاہئے ، ایسا موقع بار بار میسر نہیں آتا، چنانچہ میں اپنی جگہ بیٹھ گیا اور محو سماعت ہوگیا ـ اس نوارانی شخصیت نے میری سوچ کے برخلاف خطبہ پڑهنے کے بعد شہید مطہری کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی، کیونکہ یکم مئی کی تاریخ نذدیک تھی، میں بہت خوش ہوا، ان کی گفتگو پوری توجہ سے سنی، بڑا لطف آیا، اس لئے کہ ان کی گفتگو نے میرے اندر ایک عجیب تاثیر چهوڑی تھی - نماز عصر سے فراغت پانے کے بعد میں لائبریری کے اندر گیا اور استاد سے لئے ہوئے مقالوں کا سرسری مطالعہ کیا فہرست پڑھی ـ کیا مقالے تهے ,"سبحان اللہ " فقط ایک چھوٹے مقالے کو تین مرتبہ اول سے آخر تک پڑها اس کے بعد استاد مطہری کی مایہ ناز کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا جب اسے پڑهہ کر ختم کیا تو واقعی استاد کی پیشنگوئی سچ ثابت ہوئی - یعنی مجھے اپنے اندر انقلاب برپا ہوتا محسوس ہوا- میرے ذهن کے دریچے کھل گئے ـ انسان، خدا اور جہاں کے بارے میں میرا ایمان مضبوط ہوا ، مجھے علم کی عظمت اور اہمیت کے بارے میں بہت سارے علمی اور استدلالی مواد مل گئے اور شام کو خوشی خوشی اپنے گهر لوٹا-
دوسرے دن اسکول میں اتوار کی چهٹی تهی - علی الصبح ناشتہ سے فراغت پانے کے بعد اس نے اپنے دوست یاور کا فون نمبر ملایا ،بڑی مشکل سے اس نے کال اٹهائی ، سلام و دعا کے بعد اس نے کہا آج ہم دونوں پارک ملت سیروتفریح کے لئے چلتے ہیں کیا خیال ہے آپ کا جاوگے؟ دلاور کو گهومنے پهرنے کا بڑا شوق تها فورا" قہقہ لگاتے ہوئے ہوئے کہا کیوں نہیں ، آج ویسے بهی اسکول کی چهٹی ہے ہم ضرور جائیں گے - دلاور نے کہا پهر آپ تیاری کرکے جلدی ہمارے گهر پہنچ جائیے میں آپ کا منتظر رہوں گا -
وہ 15 منٹ کے بعد اپنی موٹر سائکل پر دوست کے گهر پہنچ گیا، ایک ایک کپ چائے پی کر دونوں پارک ملت کی طرف نکل گئے - پارک ذیادہ دور نہیں تها، ایک گھنٹے کے بعد وہ پارک ملت پہنچ گئے -کافی ادهر ادهر چکر لگانے کے بعد دلاور نے کہا " یار تهک چکے ہیں, چلو کسی سایے کے نیچے استراحت کرتے ہیں، یاور نے حامی بهر لی، دور ایک جگہ پر سایہ دکهائی دیا ،وہ چلے اور اس سایے کے نیچے بیٹهہ گئے - دلاور نے کہا" اچها آپ یہیں بیٹهے رہو, میں دکان سے کھانے کے لئے کچھ لیکر آتا ہوں ،وہ چلا اور دکان سے پیپسی کی ایک ایک بوتل اور بسکوٹ کا ایک ڈبہ خرید کر لے آیا -دونوں کهانے پینے میں مصروف ہوگئے، ادهر ادهر کی باتوں کا تبادلہ شروع ہوا، اچانک دلاور نے اپنے دوست سے کہا , یاور آپ یہ بتاو کہ کیا آپ کو مجهہ پر اعتماد ہے ؟ یاور نے زوردار قہقہ لگایا, پهر کہا یار یہ بهی کوئی پوچهنے والی بات ہے کیوں؟ آخر کیا آپ کو اس میں شک ہے ؟یار اتنے عرصے سے ہم ساتهہ رہ رہے ہیں، مجهے آپ پر اعتماد نہیں ہوگا تو پهر کس پر هوگا؟ مجهے جتنا آپ پر اعتماد ہے اتنا اعتماد اپنے خونی، سگے بهائیوں پر نہیں - باور کروگے یانہ؟ کیوں آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا ؟ دلاور نے مسکراتے ہوئے کہا, شاباش آپ سے اسی جواب کی توقع تهی - اب جب مجهہ پر اتنا آپ کواعتماد ہے تو ایک بات بهی آپ سے پوچهنے کی مجهے اجازت دو؟ کیا اجازت ہے ؟ یاور نے کہا کیوں نہیں ،آپ جو کچهہ مجهہ سے پوچهنا چاہتے ہو پوچهہ سکتے ہو - وہ مسکراتے ہوئے بولا" ایک بات کیا؟ آپ دس باتیں پوچهہ سکتے ہو بھائی ، دلاور نے کہا" اچها پهر آپ یہ بتاؤ کہ تعلیم سے آپ کو دلچسپی کیوں نہیں ؟ میں آپ سے آج اس کی وجہ دریافت کرنا چاہتا ہوں ، یقین کیجئے تعلیم سے آپ کی عدم دلچسپی دیکهہ کر مجهے بہت اذیت ہورہی ہے، اگر آپ مجهے اس اذیت میں دیکهنا نہیں چاہتے ہو تو ابهی آپ اس کی وجہ میرے سامنے شیر کیجئے - یاور نے مسکراتے ہوئے اپنی زبان کو جنبش دی اور کہا" میرے پیارے بهائی مجهے شروع شروع میں تعلیم کا بڑا شوق تها ، میں دوسال مسلسل اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا رہاہوں ،پهر جب پانچویں جماعت میں پہنچا تو تعلیم سے میرا پورا شوق یکسر ختم ہوا، تعلیم سے میری دلچسپی نہ رہی - جس کی وجہ ہماری کلاس میں تازہ وارد ہونے والے ایک استاد بنے - وہ کلین شو کرکے کلاس میں آتے تهے ، ان میں قابلیت اور صلاحیت کی کمی تهی ، وہ تھے تو ہماری ریاضی کے استاد ! مگر یقین جانئیے وہ نہ ہمیں کچھ سمجهاسکتے تهے, اور نہ پڑهاسکتے تهے ـ جب ہمارے پلے کچهہ نہیں پڑهتا تها تو ہم ان سے سوالات کرتے تهے، پوچهتے تهے لیکن وہ ہمارے سوالات کے جوابات ڈنڈهے سے دیا کرتے تهے ،ہماری بہت پٹائی کرتے تهے - اس میں اخلاق کی بو تک نہ تهی - یوں آہستہ آہستہ مجھے تعلیمی شعبے سے نفرت ہونے لگا - یار باور کرو' ابهی تو بالکل پڑهنے کو ہی فضول سمجهتا ہوں, باپ کے خوف سے برای نام اسکول جارہا ہوں ، دلاور نے ایک سرد آہ نکالی ,پهر کہا دیکهو " میری جان میں آپ کو بہت چاہتا ہوں, میں ہرگز نہیں چاہتا کہ میرا دوست تعلیم سے بیگانہ رہے - دیکهو عقلمند کی نگاہ ہمیشہ نتیجے پر ہوتی ہے ، علم اور مال بالکل قابل مقایسہ نہیں، میرے دوست علم بہتر ہے مال سے کیونکہ مال آپ کو قبر تک فائدہ دے گا جبکہ علم دنیا , قبر , برزخ , غرض ہر جگہ آپ کے ساتهہ ساتهہ رہنے والی چیز ہے , دیکهو میرے بھائی" دنیا میں نہ سارے معلمیں اچهے ہوتے ہیں اور نہ سارے برے , بلکہ کچهہ اچهے ہوتے ہیں ،تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور کچهہ تربیت سے تہیدست ہوتے ہیں تو سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکهنا ہرگز دانشمندی نہیں, پهر دلاور نے استاد مطہری کی شخصیت کے بارے میں جو مواد جمع کیا تها , بڑے اچهے اسلوب میں دوست تک پہنچایا - دلاور کو یاور کے چہرے سے معلوم ہورہا تها کہ جیسے جیسے وہ استاد مطہری کے بارے میں بتاتا جاتا, اس پر عمیق وگہرا اثر ہوتا جارہا ہے - دلاور نے اسے شہید مرتضی مطہری کے بارے میں استاد کا لیکچر , مسجد کے امام کی گفتگو سنائی ,اور جس مقالے کا خود نے مطالعہ کیا تها اس کا خلاصہ بهی سنایا شھید کی کتاب کے کچھ اقتباسات کا نچوڑ اپنے الفاظ میں بیان کیا، وہ منقلب ہوا ، وہ شھید مطہری کی شخصیت اور ان کے علمی وعملی کارنامے سن کر بہت متاثر ہوا اور دلاور سے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آج کے بعد آپ کی طرح میں بھی تعلیمی میدان بھرپور جدوجہد کروں گا شھید مرتضی جیسی علمی شخصیات کے علمی آثار کا مطالعہ کروں گا ، بہت شکریہ آپ نے پوری دلسوزی سے میری رہنمائی کی اور جہالت کی تاریک وادی سے نکل کر علم کی نورانی راہ پر دوبارہ چلنے میں میری مدد کی ـ دلاور نے دل سے خدا کی بارگاہ میں ہزار بار شکر ادا کیا کہ جس نے مجهے اپنے ہدف میں کامیابی سے ہمکنار کیا ـ
"دوستو " ہمیں بهی اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے کے لئے عظیم شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کرنا ضروری ہے , خصوصا آیت اللہ شهید مرتضی مطہری کی حالات زندگی اور ان کے آ ثار کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے -
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 186 تاريخ: پنجشنبه 19 ارديبهشت 1398 ساعت: 4:32