پیغمبر اکرم ؐ کا آخری صحابہ اور پہلا زائر حسینی
مترجم : محمد حسن جمالی
اسلام اور اس کے مفید آثار کو پہچاننے کی عمیق اور اسی وقت میں نہایت آسان اور سادہ راہوں میں سے ایک راہ ،ائمہ معصومین ؑ اور پیغمبر مکرم اسلام کے خاص اصحاب کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہے ۔ وہ اصحاب ،جو زندگی بھر پیغمبر اکرم ؐ اور ائمہ ہدی ؑ کے دکھائے ہوئے راستے پر گامزن رہے ، اور ان ہستیوں نے ہمیشہ جن کی تایید کرتے رہے ہیں ۔ جابر ابن عبد اللہ انصاری ان قلیل افراد میں سے ہیں ،جو سچے معنوں میں پیغمبر اکرم ؐ کے سمجھدار ، عارف، متقی ، مجاہد اور ماہر شاگرد تھے،جس نے 90 سال پر مشتمل اپنی پربرکت زندگی ،اسلام اور اس کی اشاعت وترویج کی راہ میں گزاری ،وہ انتہائی مخلص ،نہ تھکنے والے منجھے ہوئے عبادت گزار ،سچے عاشق اور جہد مسلسل کرنے والے عالم تھے ۔جابر نے پانچ اماموں کو درک کیا ،ان کی شاگردی کی سعادت حاصل کی، ان کے خاص دوستوں میں قرار پائے اور ان کے افکار ونظریات کی ترویج واشاعت میں بڑا کردار ادا کیا ۔ یہ وہ عظیم انسان ہیں کہ اسلام نے جن کی پرورش وتربیت کی اور خود بھی اسلام کی نشونما اور وسعت کا سبب بنے اس میں گویا آپ نے دوسروں پر سبقت لی ہے، اس میدا ن میں وہ اس قدر چمکے کہ لوگ اسے ( اصفیا) میں شمار کرنے لگے ۔جابر ابن عبد اللہ انصاری نے دو موضوع کو جو مکتب اسلام میں سرنوشت ساز اور بڑی اہمیت کے حامل ہیں کو بہت اہمیت دی گئی ۔
1۔ پوری توانائی اور جدیت سے راہ ولایت ائمہ ہدی ؑ کی پاسداری کی گئی
2۔ پیغمبر اکرم ؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے فرامین وارشادات کی اشاعت ونقل اور اسلام کی ثقافت کو پھیلانے کی شب وروز سعی کرتے رہے۔ انہوں نے نشر روایات اہلبیت کو اس قدر اہمیت دی گئی کہ آج لوگ اسے ناقل حدیث وناشر ثقافت اہلبیت کے نام سے پہچانتے ہیں ۔بنابرین ضروری ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کی زندگی کا مطالعہ کرکے اپنی زندگی کے لئے دروس حاصل کریں ۔
جابر کون ہے؟
جابر ابن عبداللہ انصاری دل وجان سے اسلام کی محافظت کرنے والے ، حق کے عاشق اور آنحضرت ؐ کے باوفا دوست تھے ،جو ہجرت سے 15 سال قبل مدینہ منورہ میں خزرج کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد گرامی عبداللہ بن عمرو ،مکہ سے مدینہ کی طرف پیغمبر اکرم ؐ کی ہجرت سے پہلے ہی اسلام قبول کرنے والے افراد میں سے پہلا فرد ہے ،جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کی گئی اور اس نے سو سال سے ذیادہ عمر پائی ،جنگ بدر میں شرکت کی اور جنگ احد میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔ حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری کی والدہ کا نام نسیہ تھا ، وہ عقبہ بن عدی کی بیٹی تھی ۔ عصر رسول اللہ ؐ میں جابر ایک مخلص ، مجاہد ، پاک عنصر اور پیغمبر اکرم ؐ کےصحابی شمار ہوتے تھے جس نے آنحضرت ؐ کے ساتھ 19 غزوے میں شرکت کی ۔ امام باقر ؑ فرماتے ہیں : جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ہے جو کہتے تھے کہ میں نے رسولخدا سے حضرت سلمان کے بارے میں پوچھا تو آنحضرت ؐ نے فرمایا : سلمان علم ومعرفت کا ایسا سمندرہے جس کے آخر تک رسائی نہیں ہوسکتی ،سلمان ،گزشتہ اور آئندہ کے علوم کا حامل ہیں خدا اس سے دشمنی رکھتا ہے جو سلمان کا دشمن ہے اور خدا اسے دوست رکھتا ہے جو سلمان کا دوست ہے ۔ میں نے عرض کیا :ابوذر غفاری ، مقداد اور عمار یاسر کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ حضرت نے جواب کو تکرار کیا۔ اس کے بعد میں آُ نحضرت کے محضر مبارک سے اٹھ کر باہر آیا تا کہ ان چار شخصتوں کی دیدار کروں اور انہیں یہ بشارت دوں لیکن جب میں نےجانے کے لئے حرکت کی تو آنحضرتؐ نے فرمایا : اے جابر تم ہمارے خاندان سے ہو ۔
جابر کو پیغمبر اکرم ؐ کی وصیت
حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری کی خصوصیات میں سے ایک برجستہ خصوصیت پیغمبر اکرم ؐ کی رمز وراز پر مشتمل وہ وصیت ہے جسے آپؐ نے جابر کو فرمائی تھی۔ یہ امر جابر کی شخصیت کی عظمت اور ان کے مقام کی بلندی پر دلالت کرتا ہے ۔ رسولخداؐ نے جابر سے فرمایا: امید قوی ہے کہ تم لمبی عمر پاوگے یہاں تک کہ نسل حسین ابن علی ؑ سے آنے والے فرزند سے ملاقات کروگے جس کا نام محمد ہے جو دینی علوم کو چیر ڈالیں گے اور اس کی تشریح کریں گے جب تم ان سے ملاقات کرو تو میرا سلام ان تک پہنچا دیں ۔
پیغمبر اکرم ؐ کی رحلت کے بعد جابر
جابر کی روش اور گفتار نیز دوسرے قرینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد کھبی بھی جابر نے دوسروں کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ پورا کمال بہادری سے اسلام کی سچی راہ پر باقی رہے وہ ان شاز ونادر لوگوں میں سے ہیں کہ زندگی کے نشیب وفراز ، جن کی پائے استقامت میں لغزش پیدا نہ کرسکے ابو زبیر مکہ کہتے ہیں : میں نے اس حال میں جابر کو دیکھا کہ وہ لاٹھی کے سہارے سے مدینے کی گلیوں سے گزرتے ہوئے لوگوں کے اجتماع کی جگہ آئے اور کہا : علی بہترین انسانوں میں سے ہیں لہذا جو بھی اس موضوع سے انکار کرے گا اس نے کفر کا راستہ اپنایا ہے اے مدینہ کے مسلمان لوگو ' علی ؑ کی دوستی اور محبت کی بنیاد پر اپنے بچوں کی تربیت کریں اگر کوئی اس راہ میں مانع بن جائے تو سمجھ لیں اس کی ماں نے کیسے اسے جنم لیا ہے ( وہ اصالت خانوادگی نہیں رکھتا ) ابو زبیر کہتے ہیں : کہ میں جابر سے پوچھا ۔ علی کیسے انسان تھے تو جابر نے اپنی آنکھوں سے آبرو کے بال کو اوپر کیا اور کہا : علی ؑ روئے زمین کے بہترین افراد میں سے تھے۔ پیغمبر اکرم ؐ کے زمانے میں منافقین کو پہچاننے کا ہمارا معیار اور میزان علی ؑ سے رکھا ہوا رابطہ تھا یعنی جو شخص علی ؑ سے اچھا رابطہ رکھتا وہ حقیقی مسلمان اور جو ان کے ساتھ اچھا ا رابطہ نہ رکھتا اسے منافق سمجھا جاتا تھا ۔
ناشر افکار خاندان نبوت
جس زمانے میں اہلبیت کے دشمنوں نے ائمہ کی ثقافت کو چھپانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جابر نے ائمہ ھدی کے افکار اور ثقافت کی اشاعت کے لئے مسلسل جدوجہد کی آنحضرت کی احادیث دریافت کرنے کے لئے جابر نے مدینہ سے شام کی طرف سفر بھی کیا ان کی وثاقت کے بارے میں امام باقرؑ نے فرمایا: جابر ہرگز جھوٹ نہیں بولتے ہیں ۔ اس سلسلے میں تاریخ لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ اسلام کی ثقافت اور گفتار کو نقل کرنے میں وہ کوشاں رہتے اور وہ اسلام کی سنتوں کے پاسداروں میں شمار ہوتے ہیں ۔
پہلا زائر حسینی
جس چیز نے جابر کی شہرت میں اضافہ کرکے اسے جہانی اور جاودانی بخشی وہ یہ تھی کہ سن 61 ہجری کو روز اربعین کربلا میں قبر مطہر سید الشھدا پر حاضر ہوکر جابر نے امام حسین ؑ کی زیارت کرکے پہلا زائر حسینی ہونے کا شرف حاصل کیا گیا اسی طرح امام حسین ؑ سے ان کا مخلصانہ اور مقدس رابطے نے اسے حسینی رنگ میں رنگا اور مظلوم کربلا کے جوار میں اسے زمان ومکان کی بلندی کی چوٹی پر قرار دیا گیا ۔ چونکہ اس کی زیارت کوئی معمولی زیارت نہیں تھی بلکہ اس کی زیارت سیاسی ،انقلابی اور زمانے کے طاغوت یزید اور دوسرے طاغوتوں کے زرق وبرق شان وشوکت کو مسمار کرنے والی تھی، یہ زیارت یزیدیوں اور زور وزر کے مالک غلاموں کے سر پر گویا ایٹم بم بن کر گری ۔
جابر کی زیارت کی کیفیت
عطیہ کوفی کہتا ہے کہ قبر حسین ابن علی ؑ کی زیارت کے لئے میں جابر بن عبداللہ انصاری کے ساتھ کربلا گیا جب ہم کربلا پہنچے تو میں نے دیکھا جابر نے نہر فرات کے پاس جاکر غسل کیا ،لباس نو زیب تن کیا ،جس کا ایک حصہ اپنے دوش پر ڈالا اور اس کا دوسرا حصہ کمر کو باندھا اور ایک تھیلی ان کے ہمراہ تھی اسے کھولا اور اس سے خوشبو دار کوئی چیز نکالی ( سعد) اور اپنے کو معطر کرکے قبر حسین ؑ کی طرف روانہ ہوا اور ذکر الہی میں مشغول رہتے ہوئے قبر حسین ؑ کے پاس پہنچے تو میں نے دیکھا کہ جابر نے اپنے آپ کو قبر حسین ؑ پر گرایا اور شدت غم واندوہ سے بیہوش ہوگئے۔ جب ہوش آیا تو تین بار کہا : یاحسین ۔ یا حسین ۔ یاحسین ، اس کے بعد کہا احبیب لا اجیب حبیبہ ۔ کیا دوست دوست کو جواب نہیں دیں گے ۔ پھر کہا کیسے جواب دیں گے میرے مظلوم سر تن سے جدا ہے ،مبارک گردن سے خون جاری ہے ۔سینہ اور شانہ مبارک خون ناحق سے رنگین ہوئے ہوئے ہیں میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ پیغمبروں کے بہترین فرزند ،مومنین کے دل کا سرور ،اسوہ تقوی، ہادی ورہبران الہی کی نسل ، پنجتن اصحاب کسا اور پارہ جگر علی وزھراء ہیں۔ پھر کہا کیوں ایسا نہ ہوں مولی، سید المرسلین کے ہاتھوں آپ نے تربیت وپرورش پائی ہے، اسوہ تقوی کے دامن میں آپ پلے بڑھے ہیں، زندگی اور موت کے وقت پاک تھے ،آپ کی جدائی سے مومنین کے دل جلے ،آپ کے زندہ ہونے میں انہیں کوئی شک نہیں ۔ آپ پر خدا کا درود وسلام ہو ۔
عطیہ کوفی نقل کرتا ہے کہ اس کے بعد جابر قبر امام حسین کے اطراف کی جانب متوجہ ہوئے اور سارے شھداء کربلا کی یوں زیارت کی : سلام ودرود ہو تمہاری ان روحوں کو جنہوں نے قبر حسین ابن علی کے محور ؑ میں اپنے لئے جگہ انتخاب کیا اور ان کے آستان مبارک میں اپنے اونٹوں کو سلایا ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکواۃ ادا کی ،امر بالمعروف ونہی از منکر کا فریضہ بحسن وخوبی سرانجام دیا اور ملحدین ومنکرین سے جنگ لڑی ، آپ نے اللہ کی عبادت کرتے کرتے موت کا استقبال کیا گیا ۔ اس اللہ کی قسم جس نے پیغمبر اکرم کو برحق مبعوث کیا ہے ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے نیک اہداف اور کاموں میں شریک تھے۔ عطیہ کوفی نے سوال کیا ،ہم کیسے ان شھدائے کربلا کے جہاد اور جنگوں میں شریک ہیں جب کہ ہم نہ ان کے نشیب وفراز میں شامل تھے اور نہ ہی ہم نے ان کے ساتھ میدان میں جاکر کو ئی تلوار چلائی ہے، در حالیکہ ان شھیدوں نے اپنی جان راہ خدا میں فدا کردیا ہے اور ان کے سروں کو تن سے جدا کردیا گیا ہے، ان کے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں ؟ جابر نے جواب میں کہا : اے عطیہ میں نے اپنے حبیب رسولخداؐ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : جو جس قوم سے الفت ومحبت رکھے گا وہ اسی قوم کےساتھ محشور ہوگا اور جو جس قوم کے عمل کو دوست رکھے گا وہ اسی قوم کے عمل میں شریک ہے ۔ اس خدا کی قسم جس نے محمد ؐ کو برحق بھیجا ہے میری اور میرے اصحاب کی نیت وہی ہے جو امام حسین ؑ اور ان کے اصحاب باوفا کی تھی جس کی بنیاد پر وہ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے ۔
امام سجاد کا دیدار اور ان کے ہمراہ لوگ
کیا جابر نے اربعین کے دن اہلبیت کے قافلے کی بھی زیارت کی ہے ؟ اس کے بارے میں دو نظرئیے پائے جاتے ہیں
1۔ امام سجادؑ اور ان کے ساتھی اسی اربعین اول ( 20 صفر سال 61 ) کو شام سے کربلا آئے اور اسی روز جابر سے ملاقات کی ۔
2۔ امام سجاد ؑ اور ان کے ساتھیوں نے دوسرے سال کے اربعین میں جابر سے ملاقات کی ہے
امام حسین ؑ کی قبر مطہر کی ضریح پر جابر کا نام
توجہ رہے امام حسین ؑ کی ضریح کا اوپر والا حصہ ہندوستان کے شیعوں کی مدد سے بنا ہے جس کی لمبائی 5/5 میٹر اور چوڑائی 4/5 میٹر ہے ۔ جس پر خالص سونے کے پانی سے آیہ نور اور پیغمبر اکرم ؐ کی یہ حدیث شریف مرقوم کی گئی ہے ۔
عربی عبارت یہاں ٹائپ کریں ۔۔۔۔۔
اے جابر قبر حسین ؑ کی زیارت کرو چونکہ قبر حسین ؑ کی زیارت کا ثواب سو مستحب حج کے برابر ہے حقیقت یہ ہے کہ حسین ابن علیؑ کی قبر مطہر بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ اور کربلا کی زمین بہشت کی زمینوں میں شمار ہوتی ہے جابر نے پیغمبر اکرم ؐ کی وصٰت پر بخوبی عمل کیا اور پہلا زائر حسینی کے عنوان سے دشوار اور سخت ترین موقعےمیں اس عظیم سنت کی بنیاد رکھی ۔
جابر کی رحلت
جب جناب جابر نے پیغمبر اکرم ؐ کا پیغام امام باقر تک پہنچایا تو امام نے جابر سے فرمایا: اپنی وصیت آمادہ کرو چونکہ آپ خدا کی راہ میں حرکت کرنے والے ہیں ،جابر کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے جاری ہوئے اور امام باقر ؑ سے عرض کی مولی آپ سے پہلے رسولخداؐ سے میں نے یہ خبر سن رکھی تھی آنحضرتؐ فرماچکے تھے کہ محمد ابن علی ؑ کا دیدار کرنے کے کچھ دن بعد تمہاری رحلت ہوگی امام باقرؑ نے فرمایا : اے جابر خدا کی قسم اللہ تعالی نے ماضی حال اور آئندہ روز قیامت تک کا علم مجھے عطا کیا گیا ۔ جابر نے وصیت کی اور سفر آخرت کے لئے آمادہ ہوگئے سر انجام 73،74،یا 78 کو 94 سال کی عمر میں دنیا سے رحلت کرگئے آپ نے مدینہ میں وفات پائی ۔ بعض روایات کے مطابق امام صادق ؑ نے فرمایا : آخری صحابہ ابان بن عثمان حاکم مدینہ نے جابر کی نماز جنازہ پڑھائی اس نے جابر کی اولاد کو یہ پیغام بھیجا ہوا تھا کہ جب تمہارے بابا کا انتقال ہوجائے اسے اس وقت تک دفن نہ کریں گے جب تک میں اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھ لوں چونکہ اس وقت کے حکمران بڑی شخصیات کے جنازے پر نماز پڑھنے کو اپنے لئےباعث امتیاز وافتخار سمجھتے تھے ۔ حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاری اگر چہ میدان میں دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے شھید نہیں ہوئے لیکن قلم وبیان کی تلوار سے وہ زندگی بھر دشمنوں سے برسر پیکار رہے ۔ انہوں نے اپنے علم اور ایمان کی طاقت کے ذریعے آل محمد سے بغض وکینہ رکھنے والے دشمنوں کی ناک مٹی میں رگڑاتے ہوئے ائمہ معصومین کا بھر پور دفاع کیا بلا تردید جابر ابن عبداللہ انصاری پیغمبر اکرم ؐ کے اس ارشاد کا مصداق تھے ( اذا کان یوم القیامۃ یوزن مداد العلماء مع دماء الشھداء فیرجع مداد العلماء علی دماء الشھداء ) روز قیامت جب دانشمندوں کے قلم کی سیاہی کو شھداء کے خون سے وزن کیا جائے گا تو دانشمندوں کے قلم کی سیاہی شھدا کے خون پر برتری پائے گی
منبع : ماہنامہ۔۔۔ کوثر ۔۔۔
بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست...
ما را در سایت بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 162 تاريخ: چهارشنبه 3 بهمن 1397 ساعت: 14:53